کوئٹہ:جمعیت علماءاسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ملک اس وقت سنگین معاشی اور سیاسی چیلنجز کا شکار ہے، لیکن حکومت ان حقیقی مسائل کو حل کرنے کے بجائے سیاسی مخالفین پر تنقید اور الزامات کی تراشی میں وقت اور وسائل ضائع کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت کا اپنے نااہلی اور ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے بداعتمادی اور خلیج میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کی “انانیت اور ہٹ دھرمی” کی وجہ سے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ آئینی و قانونی راستوں کو مسدود کرنے، دھمکیوں اور انتظامی طاقت کے استعمال سے سیاسی اشتعال انگیزی جنم لے رہی ہے، جس کے براہ راست اثرات ملکی معیشت اور عام آدمی کی زندگی پر منفی انداز میں مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کا بنیادی ستون آئینی حدود کی پاسداری ہے۔جب تک آئین پر من و عن عمل در آمد نہیں ہوگا، معاشرے میں امن، عدل اور استحکام قائم نہیں ہو سکتا۔ملکی سلامتی، بقا اور ترقی صرف اور صرف آئین کی بالادستی اور مضبوط جمہوریت میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مسلسل تصادم اور محاذ آرائی کی پالیسی سے جمہوریت اور ملکی سیاست کامستقبل گہرے بحران سے دوچار ہو چکا ہے کہ جب بھی ریاست کے اندر سیاسی تصادم اور اداروں یا فریقین کے درمیان ٹکراو¿ ہوا، اس کا خمیازہ کسی ایک طبقے کو نہیں بلکہ پوری قوم کو بھگتنا پڑا رہاہے جمعیت علماءاسلام ان تمام صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور وقت کی حساب سے اپنا کردار ادا کریں گے ۔
اہم خبربلوچستان
آئین کی بالادستی اور جمہوریت ہی ملکی استحکام کی ضمانت ہے، مولانا حیدری
