اسلام آباد : نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی بھرپور نمائندگی کی اور فلسطین اور کشمیر کے معاملے پر دلیرانہ انداز میں دوٹوک مو¿قف پیش کیا۔ دورہ نیویارک کے دوران 5 روز میں روزانہ اوسطاً 12 ملاقاتیں ہوئیں، جن میں عالمی رہنماو¿ں اور مختلف ممالک کے نمائندوں سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم کے دورہ نیو یارک کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان کی مو¿ثر نمائندگی کرتے ہوئے فلسطین، جموں و کشمیر، علاقائی امن، امریکا ایران کشیدگی، کثیرالجہتی نظام اور عالمی تنازعات کے پرامن حل سمیت اہم معاملات پر پاکستان کا مو¿قف عالمی برادری کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کیا۔ نیو یارک میں پاکستانی وفد کی سرگرمیاں معمول سے کہیں زیادہ رہیں اور وزیراعظم ایک ملاقات سے دوسری ملاقات تک مسلسل مصروف رہے۔نائب وزیراعظم نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 21 سے 26 ستمبر تک اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کی قیادت کی۔ جنرل اسمبلی کا اعلیٰ سطحی اجلاس 22 سے 26 ستمبر اور 28 ستمبر کو منعقد ہوا جبکہ وزیراعظم نے 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا نیویارک میں جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران ایک میٹنگ سے دوسری میٹنگ تک مسلسل مصروفیات رہیں۔ پاکستانی صحافیوں کے بعض ساتھیوں سے آمنے سامنے ملاقات بھی ہوئی جبکہ بعض صحافیوں نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ وزیر خزانہ رہے، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی میٹنگز کے اختتام پر واشنگٹن سے یا پاکستان واپس آکر جامع بریفنگ دیا کرتے تھے
اہم خبرپاکستان
وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں فلسطین، کشمیر پر دوٹوک مؤقف پیش کیا,اسحاق ڈار
