اہم خبرپاکستان

ایاز صادق کی فضل الرحمان سے ملاقات، مذاکراتی تعطل ختم کرنے پر اہم مشاورت

اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وفاقی وزرا رانا ثنائ اللہ اور طارق فضل چوہدری کے ہمراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات اور حالیہ تعطل کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران اسپیکر ایاز صادق نے مولانا فضل الرحمان کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والی بات چیت کے مختلف مراحل سے آگاہ کیا اور مذاکراتی عمل میں ہونے والی پیش رفت کے ساتھ ساتھ سامنے آنے والی رکاوٹوں پر بھی گفتگو کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے مولانا فضل الرحمان کو عمرہ کی ادائیگی پر مبارک باد بھی پیش کی۔ اس موقع پر ایاز صادق نے مو¿قف اختیار کیا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیابی کے قریب پہنچ چکے تھے، تاہم بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات کے باعث تعطل پیدا ہوا۔ذرائع کے مطابق ایاز صادق نے کہا کہ انہوں نے مذاکرات میں بطور سہولت کار کامیابی کے لیے بھرپور کوششیں کیں اور آئندہ بھی سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکراتی عمل کو ضروری قرار دیتے ہوئے تمام سیاسی فریقوں پر زور دیا کہ قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔بعد ازاں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان رانا ثنائ اللہ اور طارق فضل چوہدری بھی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں حکومتی وفد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے مو¿قف اختیار کیا کہ مذاکراتی عمل میں پیدا ہونے والے تعطل کی ذمہ داری حکومت پر عائد نہیں ہوتی۔ وفد نے مولانا فضل الرحمان کو مذاکرات کے دوران سامنے آنے والے اختلافات اور رکاوٹوں سے آگاہ کیا۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومتی وفد نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے تعاون نہ کرنے کو مذاکراتی عمل میں پیش رفت نہ ہونے کی ایک اہم وجہ قرار دیا۔ حکومتی مو¿قف کے مطابق اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا نہ ہونے کے باعث مذاکراتی کوششیں مطلوبہ نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ملاقات میں سیاسی کشیدگی کم کرنے، مذاکراتی عمل کو دوبارہ آگے بڑھانے اور ملکی سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *