صحت

گلوٹاتھائیون سپلیمنٹ: فائدہ مند یا محض دعویٰ؟ ماہرین کی اہم وارننگ

گلوٹاتھائیون ایک قدرتی مادہ ہے جو انسانی جسم میں تین امینو ایسڈز—گلائسین، سسٹین اور گلوٹامک ایسڈ—سے بنتا ہے اور جگر میں تیار ہو کر جسم کے مختلف افعال میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ٹشوز کی مرمت، پروٹین اور کیمیائی مادوں کی تیاری اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں گلوٹاتھائیون سپلیمنٹ کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے، خصوصاً اسے جلد کو چمکدار بنانے، بڑھتی عمر کے اثرات کم کرنے اور جگر و دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان فوائد کے حق میں مضبوط اور واضح سائنسی شواہد ابھی تک دستیاب نہیں ہیں۔

تحقیق کے مطابق گلوٹاتھائیون کا ایک محدود طبی فائدہ اس وقت دیکھا گیا ہے جب اسے کینسر کے مریضوں میں مخصوص دوا (سس پلاٹن) کے مضر اثرات، خاص طور پر اعصابی نقصان کو کم کرنے کے لیے انجیکشن کے ذریعے دیا جائے۔ تاہم یہ طریقہ صرف ماہر ڈاکٹر کی نگرانی میں ہی اختیار کیا جاتا ہے۔

ماہرین نے اس سپلیمنٹ کے ممکنہ مضر اثرات سے بھی خبردار کیا ہے۔ اگرچہ روزانہ 500 ملی گرام تک محدود مدت کے لیے استعمال کو نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں مکمل معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ کچھ افراد میں جلد پر استعمال سے الرجی یا خارش ہو سکتی ہے، جبکہ سانس کے ذریعے استعمال دمے کے مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید برآں، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو اس کے استعمال سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ اس حوالے سے تحقیق محدود ہے۔ بعض کیسز میں اس کے استعمال سے بلڈ پریشر اچانک کم ہونے کا خطرہ بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی سپلیمنٹس ہمیشہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتے، اس لیے گلوٹاتھائیون سمیت کسی بھی سپلیمنٹ کے استعمال سے قبل مستند طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔ مجموعی طور پر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بڑے دعوؤں کے باوجود گلوٹاتھائیون کے فوائد کے حق میں مضبوط سائنسی ثبوت محدود ہیں، لہٰذا احتیاط اور آگاہی کے ساتھ اس کا استعمال کیا جانا چاہیے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *