اسلام آباد : وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر پاکستان میں مو¿ثر ریگولیٹری فریم ورک، جامع پالیسی اور ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جعلی خبروں اور سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں ڈیجیٹل آگاہی کو نصاب کا حصہ بنایا جائے اور بچوں کو سائبر خطرات سے محفوظ رہنے کی تربیت دی جائے۔سائبر سیکیورٹی آگاہی ویک سیمینار کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا سے متعلق آگاہی کے لیے مسلسل اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت، مختلف تربیتی پروگراموں کا انعقاد اور سائبر حملوں سے بچاو¿ کی معلومات ہر شہری تک پہنچانا ضروری ہے۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ نوجوان نسل، بالخصوص جنریشن زی، کو بھی اس قومی کوشش کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ مستقبل کے معماروں کو ڈیجیٹل دنیا میں درپیش خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے پاکستان کے مستقبل کو مزید محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) میجر جنرل حفیظ الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے مسلسل خطرات کا سامنا ہے اور ملک میں ہزاروں کی تعداد میں جعلی ویڈیوز گردش کرتی ہیں، جبکہ سائبر حملوں کا خطرہ چوبیس گھنٹے موجود رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شہریوں کو جعلی فون کالز اور ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) سے متعلق مشکوک پیغامات موصول ہوتے ہیں، جن کے ذریعے انہیں دھوکا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ ایسے پیغامات کی تصدیق کیے بغیر انہیں آگے نہ پھیلائیں، کیونکہ غلط معلومات کا پھیلاو¿ مزید مسائل پیدا کر سکتا ہے۔چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے عوامی آگاہی کے ساتھ مو¿ثر پالیسی سازی بھی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق ٹیلی کام سیکٹر بھی سائبر خطرات سے محفوظ نہیں، اسی لیے متعلقہ ادارے اپنے نظام کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نادرا، پیمرا، پی ٹی اے اور متعلقہ کمپنیوں نے سائبر حملوں سے بچاو¿ کے لیے اپنے سسٹمز کے تحفظ پر توجہ دی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے سائبر سیکیورٹی کے اقدامات اور عوامی آگاہی کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔تقریب کے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ سائبر سیکیورٹی صرف اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت، تعلیمی اداروں، نجی شعبے، نوجوانوں اور عام شہریوں کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مو¿ثر پالیسی، ڈیجیٹل تعلیم اور ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال کے ذریعے جعلی خبروں اور سائبر جرائم کے خطرات میں کمی لائی جا سکتی ہے
اہم خبرپاکستان
سائبر حملوں اور جعلی خبروں سے نمٹنے کے لیے موثر پالیسی اور ڈیجیٹل تعلیم ناگزیر ہے، عطا اللہ تارڑ
