اسلام آباد:چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمان کو فعال بنانے کے لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پارلیمان طاقتور ہے تو ہم سب طاقتور ہیں، حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی جبکہ اپوزیشن کو بھی اپنا آئینی و پارلیمانی کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اہم پارلیمانی کمیٹیوں میں شرکت شروع کرے اور کم از کم انتخابی اصلاحات کمیٹی کے لیے اپنے ارکان کے نام نامزد کرکے جمع کرائے۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تقریروں میں صرف بیان بازی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی ہو رہی ہے۔ جو عناصر چاہتے ہیں کہ پارلیمان غیر فعال رہے، ان کا مقصد پورا ہو چکا ہے اور اس مقصد کی تکمیل میں آپ کا بھی کردار ہے۔ اپوزیشن نے کمیٹیوں میں نہ بیٹھ کر پارلیمان کے کردار کو کمزور کیا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن لیڈر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ پارلیمان فعال ہو تو بانی پی ٹی آئی کی جانب سے انہیں جو اتھارٹی حاصل ہے، اسے استعمال کریں اور اہم ترین کمیٹیوں میں بیٹھنا شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے نمائندے کمیٹیوں میں نہیں ہوں گے تو ان کمیٹیوں کا کیا فائدہ ہوگا؟انہوں نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کے حوالے سے کہا کہ کم از کم اس کمیٹی کے لیے اپنے ارکان کے نام نامزد کرکے جمع کرائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر خزانہ، وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور وزیر داخلہ ایوان میں آکر بریفنگ دیں اور بتایا جائے کہ ملک کو کن خطرات کا سامنا ہے اور دہشت گردی سے متعلق مسائل کیا ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ اپنے پاس موجود پارلیمانی طاقت کو استعمال کرنا شروع کرے۔پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے بلاول بھٹو زرداری کے مو¿قف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مناسب بات کی ہے۔ پارلیمنٹ وہ فورم ہے جہاں حکومت کا احتساب ہوتا ہے، اس لیے پارلیمان کو مضبوط ہونا چاہیے۔ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے حنیف عباسی اور مسلم لیگ (ن)کی سیاسی تاریخ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حنیف عباسی پہلے کہاں تھے اور اب کہاں آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف مسلم لیگ (ن)میں سینئر ہیں، انہیں اپنی سیاسی تاریخ بھی بتانی چاہیے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے مزید کہا کہ جب وہ اپنی قیادت کا مقف پیش کرتے ہیں تو دوسرے برا مانتے ہیں، ان کے قائد پر تین خودکش حملے ہوئے اور مخالفین کو بھی اپنے ماضی پر نظر ڈالنی چاہیے۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے عالیہ کامران نے خواجہ آصف کے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان سے متعلق ریمارکس پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ جب مولانا تقریر کر رہے تھے تو خواجہ آصف ہاتھ جوڑ رہے تھے، انہیں اسی وقت جواب دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ انہیں کوئی ہدایات موصول ہوئی ہیں۔ عالیہ کامران نے خواجہ آصف سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین کے مطابق ایوان میں بیٹھی ہیں اور وزرا کو اپنی وزارتوں پر توجہ دینی چاہیے۔ادھر رکن قومی اسمبلی قیصر احمد شیخ نے ملک کی معاشی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالات انتہائی خراب ہیں، ڈھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے اور غربت انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت بہتر نہیں ہوگی تو صحت اور تعلیم کے لیے بجٹ میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ چھوٹے کاروباریوں کو سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں اور جگہ جگہ رشوت کا مسئلہ ہے، جبکہ ان کے بقول سب سے زیادہ رشوت ایف بی آر میں ہے۔ انہوں نے ایف بی آر میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔قومی اسمبلی کا اجلاس آج(جمعہ) تک ملتوی کر دیا گیا۔
اہم خبرپاکستان
اپوزیشن انتخابی اصلاحات کمیٹی کے ارکان نامزد کرے، پارلیمان مضبوط بنائے،بلاول بھٹو
