قلعہ سیف اللہ/لورالائی :جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے صوبائی امیر، محسنِ بلوچستان سینیٹر حضرت مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی بصیرت، قومی معاملات پر مدلل مو¿قف اور عوامی امنگوں کی ترجمانی ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ان کی بصیرت افروز تقریر قابلِ ستائش ہے، جس میں انہوں نے قومی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو میثاقِ نو کی جانب متوجہ کیا۔ ملک کو سیاسی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ذاتی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو مقدم رکھنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز شنل گٹ، مسلم باغ میں واٹر سپلائی بور کی افتتاحی تقریب کے موقع پر علمائکرام اور جماعتی احباب کے ہمراہ دعائے خیر کرنے اور مرغہ فقیر زئی میں مدرسہ اقصٰی کی سالانہ دستارِ فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ علمائ کرام معاشرے کی دینی، اخلاقی اور اصلاحی تربیت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ دینی مدارس اسلام کی تعلیمات، اسلامی تہذیب اور قوم کے اخلاقی تشخص کے محافظ ہیں، ان اداروں کی سرپرستی، معاونت اور تحفظ ہماری دینی و قومی ذمہ داری ہے۔ مدارس نے ہمیشہ معاشرے میں علم، امن، رواداری اور اصلاح کا پیغام عام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، پینے کے صاف پانی کی دستیابی اور تعلیم کے فروغ کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ عوامی مسائل کا حل اور پسماندہ علاقوں کی ترقی ہماری ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ دریں اثنا، جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری جنرل آغا محمود شاہ نے کارکنوں کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مشکل حالات کے دوران قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کے سامنے اپنی ضروریات اور مسائل پیش کرنے والے بعض افراد آج اپنے سیاسی مفادات کے تحت جمعیت علماءاسلام کی قیادت پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، ایسے رویوں کے پیچھے سیاسی مجبوریوں اور فارم 47 کے ذریعے حاصل ہونے والے اقتدار کو برقرار رکھنے کی خواہش کارفرما دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماءاسلام کی قیادت نے ہمیشہ اصولی سیاست، آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار اور عوامی حقوق کے تحفظ کی بات کی ہے۔ سیاسی اختلاف ہر کسی کا حق ہے، تاہم تنقید دلیل، حقائق اور سیاسی اخلاقیات کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ محض سیاسی مصلحتوں کے تحت قیادت کو نشانہ بنانا عوامی مسائل کا حل نہیں۔ ملک اور صوبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ سیاسی مکالمے، قومی یکجہتی اور عوامی مفادات کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اہم خبربلوچستان
مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی بصیرت ملک کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے، عبدالواسع
