وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے ستمبر کے پہلے ہفتے میں عالمی مالیاتی منڈی تک رسائی حاصل کرتے ہوئے 3 ارب ڈالر حاصل کیے، جبکہ اس دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے موصول ہونے والے آرڈرز کی مجموعی مالیت 6 ارب ڈالر رہی۔ حکومت عالمی منڈی سے مزید سرمایہ حاصل کرنے کے لیے یورو بانڈ، پانڈا بانڈ اور ڈالر میں ادائیگی والے بانڈز جاری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔پارلیمنٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان کی مالیاتی ضروریات اور عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے پیش نظر مختلف اقسام کے بانڈز کے اجرا کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بینکاک میں 80 سے 90 ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں، جن میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور سرمایہ کاری کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی سرمایہ کاروں کی پاکستان پر واضح نظر ہے اور وہ موجودہ مالیاتی پروگرام سے آگے ملک کے معاشی امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کے بقول سرمایہ کار صرف جاری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں پاکستان کی مالیاتی اور اقتصادی پیش رفت میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ یورو بانڈ کے اجرا کے لیے ساڑھے پانچ سال اور 10 سال کی مدت پر مشتمل دو حصوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ساڑھے پانچ سالہ مدت رکھنے کا مقصد مستقبل میں بانڈز کی ادائیگیوں کا بوجھ ایک ہی وقت میں جمع ہونے سے بچانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے سالانہ ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی یورو بانڈ ادائیگیاں قابلِ انتظام ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی مالیاتی منڈیوں سے سرمایہ حاصل کرنے کے مختلف راستوں پر کام کر رہی ہے۔ اگر لیکویڈیٹی سپورٹ کی سہولت دستیاب ہو جاتی ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی، تاہم ایسی سہولت نہ ملنے کی صورت میں بھی پاکستان عالمی منڈی سے فنڈنگ حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔سعودی عرب کی جانب سے فراہم کردہ قلیل مدتی مالی سہولت کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سہولت کی مدت معقول وقت کے لیے بڑھا دی گئی ہے اور اس معاملے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت رواں مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر کو اس سطح تک لے جانے کی کوشش کر رہی ہے جس سے ملکی درآمدات کا کم از کم چار ماہ کا احاطہ ممکن ہو سکے۔آئی ایم ایف کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس دسمبر میں متوقع ہے، تاہم اجلاس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔وزیر خزانہ کے مطابق حکومت عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے، مالیاتی ضروریات پوری کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم بنانے کے لیے مختلف ذرائع سے سرمایہ حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
اہم خبرپاکستان
پاکستان نے عالمی مالیاتی منڈی سے تین ارب ڈالر حاصل کرلیے، مزید بانڈز جاری کرنے کی تیاری
