امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے اہم کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ انتخابی نتائج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران ان کی پالیسیوں اور حکومتی کارکردگی پر عوامی ردعمل کا اہم پیمانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابی نتائج پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز سے کم از کم سات سینیٹ نشستیں حاصل کیں، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں بھی دو درجن سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ ووٹوں کی گنتی اور بعض حلقوں میں نتائج کی تکمیل کے باعث نشستوں کی حتمی تعداد میں تبدیلی ممکن ہے ڈیموکریٹس نے ان ریاستوں میں بھی کامیابیاں حاصل کیں جہاں 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے نمایاں برتری حاصل کی تھی۔ ٹیکساس سمیت ریپبلکنز کے روایتی مضبوط علاقوں میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی کامیابیوں کو انتخابی نتائج کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔انتخابی نتائج میں ٹیکساس کا سینیٹ کا معرکہ خاص اہمیت کا حامل رہا، جہاں ڈیموکریٹ جیمز ٹالاریکو نے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی کے بعد ٹیکساس میں 1988 کے بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک امیدوار سینیٹ کی نشست جیتنے میں کامیاب ہوا۔ ریاست مین میں ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹ کی رکن سوزن کولنز کو شکست دی، جبکہ اوہائیو میں سابق ڈیموکریٹ سینیٹر شیروڈ براو¿ن نے ریپبلکن جان ہسٹڈ کو ہرا کر دوبارہ نشست حاصل کر لی۔اسی طرح آئیووا میں جوش ٹوریک نے ریپبلکن ایشلے ہنسن کو شکست دی، جبکہ کنساس میں ایڈم ہیملٹن نے ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کو ہرا دیا۔ اس کامیابی کے ساتھ کنساس میں تقریباً ایک صدی بعد ڈیموکریٹک امیدوار سینیٹ کی نشست جیتنے میں کامیاب ہوا۔ نارتھ کیرولائنا میں سابق گورنر رائے کوپر نے ریپبلکن مائیکل واٹلی کو شکست دی، جبکہ ساو¿تھ کیرولائنا میں اینی اینڈریوز نے ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار ڈارلین گراہم کو ہرا کر کامیابی حاصل کی۔مشی گن میں ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر عبدالرحمان محمد السید نے ریپبلکن مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمان سینیٹر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی کامیابی کو امریکی سیاست میں مسلم نمائندگی کے حوالے سے تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ایوانِ نمائندگان کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس نے متعدد اہم حلقوں میں کامیابیاں حاصل کیں۔ انتخابی نتائج کے مطابق پارٹی نے ان ریاستوں اور حلقوں میں بھی نشستیں حاصل کیں جہاں ریپبلکن امیدواروں کو 2024 کے صدارتی انتخابات میں واضح برتری حاصل رہی تھی۔انتخابی نتائج کے ابتدائی جائزوں میں مہنگائی، روزمرہ اخراجات میں اضافہ، ایران کے ساتھ جنگ، امیگریشن پالیسی اور حکومتی شفافیت سے متعلق خدشات کو ووٹروں کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے انتخابی جائزے کے مطابق تقریباً دس میں سے نو ووٹروں نے مہنگائی اور روزمرہ زندگی کے اخراجات کو اپنے ووٹ کے فیصلے میں اہم یا انتہائی اہم قرار دیا۔ ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے معاشی اثرات بھی انتخابی مہم کے نمایاں موضوعات میں شامل رہے۔ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی صدارتی مدت کے باقی دو برسوں میں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں مضبوط اپوزیشن کا سامنا ہوگا۔ نئی اکثریت کے باعث کانگریس کی اہم کمیٹیوں کی سربراہی ڈیموکریٹس کے پاس آ جائے گی، جس سے انہیں وائٹ ہاو¿س، محکمہ انصاف، محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی اور دیگر وفاقی اداروں کے اقدامات کی نگرانی اور تحقیقات کرنے کا موقع ملے گا۔ڈیموکریٹک اکثریت والی کمیٹیاں حکومتی عہدیداروں کو طلب کرنے، دستاویزات حاصل کرنے اور ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی، امیگریشن اقدامات، سرکاری اخراجات اور انتظامی فیصلوں پر سوالات اٹھانے کے اختیارات استعمال کر سکیں گی۔سینیٹ میں اکثریت کے باعث ڈیموکریٹس صدر کی جانب سے وزرا، سفیروں اور وفاقی ججوں کے لیے نامزد افراد کی توثیق روکنے یا اس عمل میں تاخیر کرنے کی پوزیشن میں بھی ہوں گے۔ تاہم صدر کے پاس قانون سازی کو ویٹو کرنے کا اختیار برقرار رہے گا۔ کانگریس صدر کے ویٹو کو صرف اسی صورت مسترد کر سکتی ہے جب دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے متعلقہ بل دوبارہ منظور کیا جائے۔ ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل ہونے کے بعد صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا آئینی اختیار بھی حاصل ہوگا۔ اگر ایوانِ نمائندگان مواخذے کی منظوری دے دیتا ہے تو معاملہ سینیٹ میں جائے گا، جہاں صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے موجود ارکان میں سے دو تہائی کی حمایت درکار ہوگی۔ اس لیے مواخذے کی منظوری اور صدر کو عہدے سے ہٹانا آئینی طور پر دو الگ مراحل ہیں۔اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ بدستور امریکی صدر اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف رہیں گے۔ وہ خارجہ پالیسی اور سفارتی معاملات میں اپنا آئینی کردار ادا کرتے رہیں گے اور موجودہ قوانین کے تحت انتظامی احکامات بھی جاری کر سکیں گے۔ تاہم بجٹ، نئی قانون سازی اور اہم سرکاری تقرریوں کے معاملات میں انہیں ڈیموکریٹک اکثریت کے ساتھ اتفاقِ رائے پیدا کرنا پڑ سکتا ہے۔انتخابات میں کامیاب ہونے والے ایوانِ نمائندگان کے ارکان اور نومنتخب سینیٹرز 3 جنوری 2027 کو نئی کانگریس کے آغاز پر حلف اٹھائیں گے۔ اسی روز ایوانِ نمائندگان کے نئے اسپیکر کا انتخاب بھی ہوگا۔ ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز کے اسپیکر منتخب ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ اگر وہ اس منصب پر منتخب ہوتے ہیں تو امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام اسپیکر ہوں گے۔انتخابی نتائج کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ اپنی آئینی مدت مکمل ہونے تک 20 جنوری 2029 تک صدر کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ تاہم کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ان کی باقی صدارتی مدت کے دوران قانون سازی، بجٹ کی منظوری، امیگریشن پالیسی، ایران سے متعلق حکمت عملی اور وفاقی اداروں کی نگرانی جیسے معاملات میں اہم کردار ادا کرے گی۔امریکی سیاست میں طاقت کے توازن کی یہ تبدیلی دونوں بڑی جماعتوں کے لیے 2028 کے صدارتی انتخابات کی تیاریوں کو بھی اہم بنا دے گی۔ ڈیموکریٹس کانگریس میں اپنی اکثریت کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی نگرانی کریں گے، جبکہ ریپبلکن پارٹی کو اپنی انتخابی شکست کے اسباب کا جائزہ لینا ہوگا۔یوں وائٹ ہاو¿س میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت برقرار رہنے کے باوجود کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت آئندہ دو برسوں میں امریکی سیاست، قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں کے لیے ایک اہم آئینی اور سیاسی مرحلہ ثابت ہوگی۔
انٹرنیشنلاہم خبر
امریکا وسط مدتی انتخابات؛ ڈیموکریٹس کو دونوں ایوانوں میں سادہ اکثریت حاصل، ٹرمپ نے شکست قبول کرلی
