اہم خبر

پاکستان نے ایران اور امریکا کو ثالثی کی پیشکش کی، کیا یہ کشیدگی کم کر پائے گا؟

پاکستان نے باضابطہ طور پر ایران اور امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر دی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اسلام آباد میں ہو سکتی ہے۔

مذاکرات کی خبریں اتوار کو اس وقت گردش کرنا شروع ہوئیں تھیں جب صدر ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور تہران کے پاور پلانٹس پر حملوں کے فیصلوں مؤخر کیا جاتا ہے۔

ایران نے ان مذاکرات کی تردید کی لیکن اس کے فوراً بعد ہی یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کی شام سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے ذریعے جاری کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے تاکہ خطے میں امن اور استحکام قائم ہو۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’امریکہ اور ایران رضامند ہوں تو پاکستان معنی خیز اور حتمی مذاکرات کروانے کے لیے تیار ہے جن کے ذریعے تنازع کا حل نکالا جا سکے۔‘

صدر ٹرمپ نے شہباز شریف کا بیان ٹرتھ سوشل پر بھی شیئر کیا، جس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید واشنگٹن پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے آگاہ ایک ایرانی سفارتکار نے بی بی سی نیوز اردو کے نامہ نگار روحان احمد کو بتایا کہ ’اس بات چیت کے معمولی امکانات موجود ہیں۔‘

’اگر (ان مذاکرات کے حوالے سے) حتمی فیصلہ ہو جاتا ہے تو دیگر جگہوں کے علاوہ اسلام آباد بھی میزبانی کا مقام ہو سکتا ہے۔‘

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *