افغانستان کے ساتھ سفارتی تناؤ کے دوران جہاں پاکستان نے لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجا ہے وہیں پاکستان کے سینکڑوں شہری ڈیورنڈ لائن کی دوسری جانب عید منانے پر مجبور ہوئے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس ستمبر کے آخر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور جھڑپوں کے باعث طورخم سرحد ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کردی گئی تھی۔ تاہم کچھ عرصہ بعد پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کے لیے سرحد کو جزوی طور پر کھول دیا گیا تھا۔
بعد ازاں رواں سال 26 فروری کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک بار پھر بڑھتی کشیدگی کے باعث بارڈر کراسنگ مکمل طور پر بند کردی گئی تھی۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ عید الفطر کے اسلامی تہوار کے لیے اعلان کردہ عارضی وقفے کے خاتمے کے بعد پاکستان افغانستان کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے محکمہ داخلہ کی جانب سے 26 مارچ کو جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق ملکی پالیسی کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو انکے وطن واپس بھجوایا جا رہا ہے اور اب تک پاکستان سے مجموعی طور پر 21 لاکھ 32 ہزار افغان باشندے وطن واپس بھجوائے گئے ہیں۔
