انٹرنیشنل

ایران نے ٹرمپ کے غیر مستقل موقف پر تنقید کردی

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ایران پراجیکٹ کے ڈائریکٹر علی واعظ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے مؤقف میں مستقل مزاج رہی ہے جبکہ بظاہر نظر آنے والے متضاد بیانات دراصل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’غیر مستقل مؤقف‘ پر ایرانی ردعمل کی عکاسی کرتے ہیں۔

علی واعظ نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ٹوڈے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی اور واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایران نے ’بڑی حد تک ہم آہنگی‘ برقرار رکھی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ تہران سے آنے والے بعض متضاد اشاروں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ یہ زیادہ تر اس بات کی عکاسی ہے کہ ایرانی قیادت صدر ٹرمپ کے غیر واضح اور بدلتے مؤقف پر کس طرح ردعمل دے رہی ہے۔

مثال کے طور پر علی واعظ کے مطابق جب ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش ختم کرنے کا اعلان کیا تو یہ اس وقت ہوا جب صدر ٹرمپ نے یہ نہیں کہا تھا کہ امریکہ اپنی ناکہ بندی برقرار رکھے گا۔

بعد ازاں جب صدر ٹرمپ نے امریکی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا تو ایرانی فوج نے کہا کہ وہ اپنی بندش دوبارہ قائم کرے گی۔

اُن کے بقول یہ کسی اندرونی اختلاف کی علامت نہیں بلکہ واقعات کے تسلسل کا نتیجہ تھا۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *