سابق سینیٹر و وزیرِ اطلاعات مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ خان عبدالولی خان نے مجھے قصہ سنایا کہ جب اُنھوں نے ڈھاکہ کے ایوانِ صدر میں 22 یا 23 مارچ 1971 کو جنرل یحییٰ خان سے آخری ملاقات کی تو جنابِ صدر سلیپنگ گاؤن میں تھے۔ میں نے یحییٰ خان سے پوچھا کیا حل سوچا؟ انھوں نے بہت اطمینان سے کہا ’وی وِل شوٹ آور وے تھرو‘ ( ہم گولیوں سے اپنا راستہ بنا لیں گے)۔
نواب خیر بخش مری کی وفات سے کچھ عرصہ پہلے میں نے بی بی سی اردو کے لیے اُن کا طویل انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال یہ بھی ہوا کہ آپ وفاق سے اتنے خفا کیوں رہتے ہیں؟ نواب صاحب نے منٹ بھر مُسکرانے کے بعد کہا ’ہم ناراض بالکل نہیں، ہم تو آپ سے اور آپ کے جھوٹ سے بیزار ہو چکے ہیں اور گلو خلاصی چاہتے ہیں۔‘
اہلِ اختیار اپنے تئیں مسلسل ثابت کرتے رہتے ہیں کہ وہ بلوچستان اور اس کی نفسیات سے کس قدر واقف بلکہ اس کے ماہر ہیں۔
مثلاً تین روز قبل وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اپنے دھواں دھار خطاب میں اعداد و شمار کے ذریعے ثابت کیا کہ ملک دشمن عناصر بلوچستان کی پسماندگی اور محرومی کے بیانیے کو نوجوانوں کو ورغلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
خواجہ آصف کے مطابق جبری گمشدگی کا بیانیہ من گھڑت ہے، یہ کوئی قوم پرست تحریک نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد اور سمگلروں کا گٹھ جوڑ ہے کیونکہ حکومت نے اُن کی چار ارب روپے روزانہ کی تیل کی سمگلنگ روک دی ہے۔
خواجہ آصف نے اعداد و شمار پیش کر کے احساس محرومی کے بیانیے پر بھی سوال اٹھایا۔ انھوں نے بتایا کہ 1947 میں صوبے میں 114 سکول تھے آج 1596 سکول، 12 یونیورسٹیاں، پانچ میڈیکل کالج، 145 دیگر کالج، 13 کیڈٹ کالج، 21 ٹکنیکل ادارے، 54 ہسپتال، چار امراضِ قلب کے مراکز، 24 ڈائیلیسس سینٹر، 756 بنیادی صحت مراکز اور 841 ڈسپنسریاں ہیں۔
خواجہ آصف کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان میں سب سے زیادہ ایئرپورٹ ہیں۔ آبادی کم ہے، ہر 35 کلومیٹر میں اوسطاً ایک شخص رہتا ہے۔ اتنے بڑے علاقے کو پُر امن رکھنے کے لیے زیادہ فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے۔
جب خواجہ صاحب نے اپنا خطاب ختم کیا تو 336 کے ایوان میں 10، 15 ارکان بیٹھے تھے۔
