سپریم کورٹ نے حلقہ این اے 251کی انتخابی عذرداری کیس میں خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب امیدوار قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا اور الیکشن کمیشن کو ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن فوری جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔یہ فیصلہ تین رکنی بینچ نے سنایا جس میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد شامل تھے، جبکہ تفصیلی فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے تحریر کیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے مختصر فیصلے میں بلوچستان الیکشن ٹربیونل کی جانب سے 22پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم پہلے ہی کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ سید سمیع اللہ کی کامیابی کا 18فروری 2024کا نوٹیفکیشن بھی غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا تھا۔
تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریٹرننگ افسر نے فارم 48تیار کرتے وقت فارم 45کے نتائج میں دانستہ اور غیر قانونی تبدیلیاں کیں۔
عدالت کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ خوشحال خان کاکڑ کے ہر پولنگ سٹیشن سے 100ووٹ کم کر کے مخالف امیدوار کے کھاتے میں ڈالے گئے۔فیصلے میں کہا گیا کہ پولنگ سٹیشن نمبر 343پر خوشحال خان کاکڑ کے 100ووٹ کم کیے گئے جبکہ مخالف امیدوار کے ووٹوں میں 200ووٹوں کا اضافہ کیا گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر فارم 45کے نتائج تبدیل نہ کیے جاتے تو خوشحال خان کاکڑ 1863ووٹوں کی واضح برتری سے کامیاب ہوتے۔
سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی کہ نتائج میں تبدیلی انتخابی مینڈیٹ تبدیل کرنے کی سوچی سمجھی کوشش تھی اور ریٹرننگ افسر کے پاس فارم 45کے نتائج تبدیل کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن آئین کے تحت شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانے کا پابند ہے، جبکہ ووٹوں میں ردوبدل عوامی رائے پر شب خون مارنے کے مترادف ہے، انتخابی عملے کی جانب سے نتائج میں ردوبدل انتخابی قوانین کے تحت مجرمانہ کارروائی کے زمرے میں آتا ہے۔
