پاکستان اور افغانستان میں طالبان کے درمیان جاری جھڑپیں چھٹے روز میں داخل ہو گئی ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق اب تک پڑوسی ملک میں 56 مقامات پر فضائی حملے کیے گئے، جن میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے علاوہ فوجی تنصیبات جیسے اسلحے کے ڈپو اور بٹالین ہیڈ کوارٹر بھی شامل ہیں۔
افغان طالبان کے مطابق بگرام ایئر بیس پر کارروائی کو ناکام بنایا گیا، اور افغان وزارت دفاع کے ترجمان عنایت خوارزمی نے بتایا کہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم پاکستان کی طرف سے منگل کو وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ چھ روز کی جھڑپوں میں 464 افغان طالبان اہلکار ہلاک ہوئے، 188 چیک پوسٹیں تباہ ہوئیں، 31 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا اور 192 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ ہو گئے۔
دوسری جانب افغان وزارت دفاع نے سرحد پار پاکستان میں 100 سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت اور 25 چوکیوں پر قبضے کے دعوے کیے، اور پاکستان میں ڈرونز کے ذریعے فضائی حملوں کا بھی ذکر کیا۔
دونوں طرف سے دعووں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، لیکن سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں سرحدی علاقوں میں عام شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات نظر آ رہے ہیں۔
اب تک پاکستان اور افغان طالبان نے جھڑپیں روکنے یا مذاکرات کی بحالی کا کوئی عندیہ نہیں دیا، اور یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کی وجہ سے جاری رہنے کا خدشہ ظاہر کر رہی ہے۔
