پاکستان نے جمعے کو افغانستان کے دارالحکومت کابل اور سرحد کے قریب قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے، جن میں پاکستانی حکام کے مطابق صرف دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ فضائی کارروائیاں جمعرات کی شب افغانستان کی طرف سے سرحد کے قریب کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔
حالانکہ اس سے قبل بھی پاکستان کی طرف سے فضائی کارروائیاں ہو چکی ہیں، تاہم اس بار پہلی مرتبہ کابل اور قندھار جیسے بڑے شہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ قندھار افغان طالبان حکومت کی مرکزی اور عسکری قیادت کا اہم مرکز ہے، جس سے اس حملے کی شدت اور اسٹریٹجک اہمیت نمایاں ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا:
“ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا۔ اب ہماری اور آپ کی کھلی جنگ ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے حالات کو نارمل رکھنے کے لیے براہِ راست اور دوست ممالک کے ذریعے بھرپور سفارت کاری کی، لیکن اب فوجی کارروائی ناگزیر ہو گئی ہے۔
افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے فضائی حملوں سے کوئی نقصان سامنے نہیں آیا۔ دونوں ممالک کی سرحدی لائن کے اطراف حالات کشیدہ ہیں اور سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔
یہ کارروائی سوال پیدا کرتی ہے کہ آیا پاکستان اپنے مقاصد حاصل کر پائے گا یا اس سے خطے میں حقیقی جنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
