دنیا کے کئی ممالک میں ٹیکنالوجی نے زرعی منڈیوں اور سپلائی چین کے نظام کو جدید بنا دیا ہے، تاہم پاکستان میں پھل اور سبزی کی تجارت اب بھی زیادہ تر روایتی طریقہ کار کے تحت چل رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں زرعی پیداوار کی خرید و فروخت بنیادی طور پر تھوک منڈیوں اور درمیانی افراد یعنی آڑھتیوں کے گرد گھومتی ہے، جو قیمتوں اور سپلائی پر نمایاں اثر رکھتے ہیں۔
اگرچہ شہری علاقوں میں ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس اور کوئک کامرس سروسز تیزی سے پھیل رہی ہیں، لیکن فارم سے صارف تک رسائی کا نظام بڑی حد تک پرانا ہی ہے۔ کسان تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز ابھی تک پھل اور سبزی کی مجموعی تجارت کا بہت چھوٹا حصہ سنبھال رہے ہیں۔ سندھ آبادگار بورڈ کے صدر محمود نواز شاہ کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز مجموعی پیداوار کا صرف دو سے تین فیصد تک ہی سنبھال سکتے ہیں، جبکہ باقی تجارت روایتی منڈیوں میں ہی ہوتی ہے۔
قانونی طور پر زرعی اجناس کی خرید و فروخت مخصوص سرکاری طور پر منظور شدہ منڈیوں میں ہی کی جا سکتی ہے، جہاں مارکیٹ کمیٹیاں نظام کو کنٹرول کرتی ہیں اور آڑھتی مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں منڈیوں کا انفراسٹرکچر بھی آبادی کے مقابلے میں محدود ہے۔ مثال کے طور پر کراچی جیسے بڑے شہر میں بنیادی طور پر صرف ایک بڑی تھوک سبزی و فروٹ منڈی موجود ہے، جس کے باعث تجارت چند ہاتھوں تک محدود ہو جاتی ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز طویل مدت میں ایک متبادل نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس اور کوئک کامرس کمپنیاں براہ راست خریداری، بہتر کولڈ چین لاجسٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ضیاع کم کرنے اور معیار بہتر بنانے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر سپلائی چین میں خراب ہونے والی اشیا کی مقدار کم ہو جائے تو اس سے کسانوں کو بہتر قیمت اور صارفین کو مناسب نرخ مل سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زرعی مارکیٹنگ نظام میں بنیادی اصلاحات، نجی شعبے کی مؤثر شمولیت، بہتر کولڈ چین سسٹم اور کسانوں کے لیے زرعی قرض تک آسان رسائی کے بغیر ٹیکنالوجی کے ذریعے اس شعبے میں بڑی تبدیلی لانا مشکل ہوگا۔
