اسلام آباد: تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور بیرسٹر گوہر علی خان کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں 27 ستمبر کو ہونے والے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی اور مارچ کی تیاریوں سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے کہا گیا کہ 27 ستمبر کا مارچ جمہوری اور آئینی حقوق کے لیے ہوگا اور اسے مکمل طور پر پ±رامن رکھا جائے گا۔ملاقات کے دوران علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی گرفتاریوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مذمت کی گئی۔ رہنماو¿ں نے سیاسی رہنماو¿ں اور کارکنوں کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے اور گرفتاریوں کے عمل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مطابق ملک میں سیاسی سرگرمیوں کے خلاف جاری اقدامات باعثِ تشویش ہیں۔ رہنماو¿ں نے سیاسی معاملات کو آئینی اور جمہوری طریقے سے آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ملاقات میں آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مو¿ثر بنانے سے متعلق امور بھی زیرِ غور آئے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے واضح کیا کہ 27 ستمبر کے مارچ کے دن اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ اتحاد کی قیادت خود کرے گی۔
اہم خبرپاکستان
بیرسٹر گوہر کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، 27 ستمبر کے لانگ مارچ پر مشاورت
