انٹرنیشنلکاروبار

ایران جنگ کے اثرات، برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی موٹرنگ تنظیم آر اے سی (RAC) نے بتایا ہے کہ ملک میں ڈیزل کی اوسط قیمت بڑھ کر 199.18 پینس فی لیٹر ہوگئی ہے، جو جون 2022 میں قائم ہونے والے 199.09 پینس فی لیٹر کے سابقہ ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔ آر اے سی کے سربراہ برائے پالیسی سائمن ولیمز کے مطابق ایک اوسط خاندانی گاڑی کی ٹینکی مکمل بھرنے کی لاگت اب تقریباً 110 پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہے، جو ایران تنازع شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 31 پاؤنڈ زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں بلکہ صنعت، زراعت، لاجسٹکس اور اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔ آر اے سی کے مطابق عالمی سطح پر ریفائننگ صلاحیت میں کمی اور مشرق وسطیٰ و یوکرین میں جاری تنازعات کے باعث ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ طور پر امریکی ڈیزل برآمدات پر پابندی کی حمایت کے بعد بھی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھا گیا۔ برطانیہ اپنی ضرورت کا تقریباً 55 فیصد ڈیزل درآمد کرتا ہے، جبکہ 2025 میں اس کی ڈیزل درآمدات میں امریکا کا حصہ تقریباً 31 فیصد تھا۔ رائٹرز کے مطابق برطانیہ میں ڈیزل کی قیمتیں یورپ کے بعض دیگر ممالک کے مقابلے میں اب بھی کم ہیں، تاہم بلند ایندھن قیمتیں ملک میں مہنگائی پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ آر اے سی کے سائمن ولیمز کا کہنا ہے کہ پمپ پر قیمتیں کم ہونے کے لیے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں محض چند دن نہیں بلکہ کئی ہفتوں تک کمی ضروری ہوگی، جبکہ حکومت ایندھن ڈیوٹی یا ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں کمی کے ذریعے صارفین پر بوجھ کم کرسکتی ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *