اہم خبرپاکستان

لانگ مارچ کی آڑ میں بنوں طرز کی بدامنی کا منصوبہ ہے، خواجہ آصف

اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ 4 اکتوبر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کی آڑ میں بدامنی اور تشدد پھیلانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ تاہم سیاسی سرگرمی کی آڑ میں ریاستی و سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے یا 9 مئی جیسے واقعات کی کوشش کی گئی تو ریاست قانون کے مطابق فیصلہ کن کارروائی کرے گی۔ وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ مذکورہ منصوبے کو سمجھنے کے لیے 15 جولائی 2024 کو پیش آنے والے بنوں واقعے کی طرز کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ بنوں کینٹ پر ٹی ٹی پی کے گل بہادر گروپ کے خودکش حملے میں 8 فوجی جوان شہید ہوئے، جس کے چار روز بعد 19 جولائی کو بنوں میں احتجاج ہوا۔ خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ اس احتجاج میں مختلف سیاسی و قوم پرست عناصر کے ساتھ تحریک انصاف اور پی ٹی ایم سے منسلک گروہ بھی شامل ہوئے اور مظاہرین نے کینٹ کے سپلائی ڈپو کی ٹوٹی ہوئی دیوار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں داخل ہو کر لوٹ مار شروع کی۔ ان کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مزاحمت پر ہجوم کی طرف سے فائرنگ بھی کی گئی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ان کے پاس اطلاعات ہیں کہ 4 اکتوبر سے شروع ہونے والا لانگ مارچ اب صرف خیبرپختونخوا میں گھمایا جائے گا اور الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت نے مبینہ طور پر اپنے حامی عناصر کے ذریعے ”بنوں اسٹائل“ حملوں کی تیاری کی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا مظاہروں اور جلسے جلوسوں کی آڑ میں فوجی یا پولیس تنصیبات اور چوکیوں کے اطراف افراتفری پھیلانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور لانگ مارچ کے منتظمین کو متنبہ کیا کہ کسی بھی مرحلے پر 9 مئی جیسے پرتشدد واقعات دہرانے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جدوجہد اور مسلح بغاوت میں واضح فرق ہے اور سیاسی جدوجہد کے لیے آئینی و جمہوری راستے موجود ہیں۔ تاہم، ان کے بقول، اگر سیاسی جدوجہد کے پردے میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر مسلح کارروائی کی گئی تو اسے ریاست کی سالمیت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *