اہم خبربلوچستان

بلوچستان میں زرعی انقلاب، آواران کی 1147 ایکڑ بنجر زمین قابلِ کاشت ہوگئی

کوئٹہ : بلوچستان میں بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے عمل نے صوبے میں زرعی ترقی اور مقامی معیشت کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں۔ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت جھل جھاو¿، آواران میں 1,147 ایکڑ بنجر رقبے کو قابلِ کاشت بنا کر زرعی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا ہے، جہاں مختلف فصلوں کی کاشت سے مقامی سطح پر روزگار اور آمدن کے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ زرعی بحالی کے بعد مذکورہ اراضی پر کپاس، گندم، پیاز، مختلف سبزیوں اور پھلوں کی کاشت شروع کردی گئی ہے۔ مقامی سطح پر زرعی سرگرمیوں میں اضافے سے کسانوں کو اپنی پیداوار کے ذریعے آمدن بڑھانے اور معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے نئے مواقع میسر آرہے ہیں۔ مقامی کسانوں نے بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اسے علاقے میں خوشحالی کی نئی امید قرار دیا ہے۔ کسانوں کے مطابق زرعی سرگرمیوں میں اضافے سے مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ علاقے کی مجموعی معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بلوچستان میں بنجر زمینوں کی زرعی بحالی کو صوبے میں زرعی شعبے کی ترقی کے لیے اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے غیر پیداواری رقبے کو زرعی پیداوار میں شامل کرنے اور مقامی سطح پر معاشی مواقع بڑھانے پر توجہ دی جارہی ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق بنجر زمینوں کی بحالی اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ سے بلوچستان میں زرعی پیداوار میں اضافے اور مقامی کسانوں کے لیے پائیدار معاشی مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *