اہم خبرپاکستان

آئی ایم ایف کا شوگر، فیول سبسڈی اور ڈسکوز نجکاری پر حکومت سے مذاکرات جاری

اسلام آباد : پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات میں شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن، فیول سبسڈی، توانائی شعبے کے گردشی قرضے، گیس ٹیرف اور ڈسکوز کی نجکاری سمیت اہم معاشی معاملات پر بات چیت جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت پٹرولیم اور پاور ڈویڑن کے حکام کی آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جبکہ آئی ایم ایف مشن کی وزارت خزانہ کے حکام سے دوبارہ ملاقات متوقع ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف صوبوں کی رضامندی سے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، تاہم سندھ حکومت نے مرکز کی جانب سے شوگر پالیسی سے متعلق اقدامات کو صوبائی خودمختاری میں مداخلت قرار دیا ہے۔ سندھ کے اعتراض کے باعث شوگر پالیسی پر تاحال اتفاقِ رائے نہیں ہوسکا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف موجودہ مستحق صارفین کے لیے وزیراعظم فیول سبسڈی جاری رکھنے پر رضامند ہے، تاہم سبسڈی پروگرام میں مزید صارفین شامل نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ فیول سبسڈی کو موٹر سائیکلوں، تھری ویلرز اور 800 سی سی تک انجن رکھنے والی گاڑیوں تک محدود رکھا جائے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے آٹو پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اس معاملے پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن وزارت نجکاری کے حکام سے بھی ملاقات کرے گا، جس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری اور لائن لاسز میں کمی کے معاملات زیر بحث آئیں گے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشن کے ایف بی آر کے ساتھ مذاکرات مکمل ہوچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے روپے کی قدر میں کمی اور مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اصلاحات، مالی اہداف اور معاشی پالیسیوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا جارہا ہے،جس میں میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی مذاکرات کے اہم نکات کو حتمی شکل دی جائے گی

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *