اہم خبرپاکستان

بھارت کا ’فالس فلیگ آپریشن‘ بے نقاب، جسے کشمیر میں مارا گیا بتایا وہ زندہ پاکستانی نکلا: ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ 29 ستمبر کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کیے گئے آپریشن کے حوالے سے سامنے آنے والی کہانی میں کئی تضادات موجود ہیں اور پاکستان کے مطابق یہ ایک مبینہ فالس فلیگ کارروائی ہے، بھارت نے کوئی فالس فلیگ ڈراما رچانے یا مہم جوئی کی کوشش کی، تو اس کا ایسا دردناک اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا جسے ان کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی، بھارت میں آج مسلمان، مسیحی، سکھ اور دیگر نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد ریاستی جبر کا نشانہ بن رہے ہیں، ہمارا واسطہ ایک انتہائی گھٹیا دشمن سے پڑا ہے ۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان افواج پاکستان ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی دعوے کی تفصیلات اور اس کے بعد سامنے آنے والی مختلف اطلاعات کا حوالہ دیا۔ بھارتی فوج نے 29 ستمبر کو کوراگ، یوسمرگ کے علاقے میں مشترکہ سرچ آپریشن کی اطلاع دی تھی، جبکہ بعد میں ایک شخص کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے کرتے ہوئے اسے لشکر طیبہ کا مبینہ دہشت گرد قرار دیا گیا۔ بھارتی فوج نے اس کارروائی میں اس شخص کی ہلاکت اور مبینہ جنگی سازوسامان برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کی ابتدائی اطلاع میں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، تاہم تقریباً ساڑھے سات گھنٹے بعد اسے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ قرار دیا گیا۔ اس کے بعد بھارتی ذرائع ابلاغ میں مزید دعوے سامنے آئے جن میں مذکورہ شخص کو سابق پاکستانی فوجی اور ایس ایس جی اہلکار بتایا گیا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے اس شخص کے حوالے سے پاک فوج کے سروس نمبر سمیت مختلف تفصیلات نشر کیں اور اسے سابق حوالدار قرار دیا۔ بھارتی ذرائع میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ محمد آصف نے 2000 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں ایس ایس جی سے وابستہ رہا۔ یہ دعوے بھارتی ذرائع اور میڈیا رپورٹس سے منسوب ہیں، جبکہ پاکستان نے ان دعوو¿ں اور ان سے اخذ کیے گئے نتائج کو مسترد کیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران ضلع اٹک سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ حوالدار محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ پاکستان کے مو¿قف کے مطابق محمد آصف زندہ ہیں اور راولپنڈی میں اپنے اہلخانہ کے ساتھ موجود ہیں، جسے پاک فوج نے بھارتی دعوے کے جواب میں اہم ثبوت کے طور پر پیش کیا۔محمد آصف نے بتایا کہ انہوں نے 2000 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں ایس ایس جی سے وابستہ رہے۔ ان کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد وہ راولپنڈی میں اپنی معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصے سے انہیں بھارتی نمبروں سے فون کالز موصول ہورہی تھیں اور ان سے ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی، تاہم انہوں نے ایسے نمبرز کو بلاک کردیا۔ بعد میں انہیں دوستوں کے ذریعے معلوم ہوا کہ بھارتی ذرائع ابلاغ میں ان کے نام سے یہ خبر گردش کررہی ہے کہ انہیں مقبوضہ کشمیر میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک کردیا گیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں بھارتی بیانیے کی زمانی ترتیب پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق پہلے ایک نامعلوم شخص کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی، اس کے بعد اس کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے طور پر کی گئی اور پھر بھارتی ذرائع ابلاغ نے اسے سابق پاکستانی ایس ایس جی اہلکار قرار دیتے ہوئے اس کی مبینہ عسکری زندگی سے متعلق تفصیلات نشر کرنا شروع کردیں۔بھارتی حکام کی جانب سے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کو لشکر طیبہ کا مبینہ کمانڈر قرار دیا گیا ہے، جبکہ بھارتی ذرائع نے اسے جموں و کشمیر میں مختلف حملوں سے بھی جوڑا ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے بھی اس ہلاکت کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی قرار دیا گیا ہے۔ پاکستانی فوج نے تاہم بھارتی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے مو¿قف اختیار کیا ہے کہ ایک زندہ پاکستانی شہری کو مقبوضہ کشمیر میں مارے گئے مبینہ دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا بھارتی بیانیے پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ واقعے کے حوالے سے بھارتی فوج اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے مختلف مراحل میں مختلف تفصیلات سامنے آنا معاملے کی شفاف تحقیقات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے بھارتی کارروائی اور اس کے بعد سامنے آنے والی اطلاعات کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ریٹائرڈ حوالدار محمد آصف کو میڈیا کے سامنے لاکر اپنا مو¿قف واضح کردیا ہے۔دوسری جانب بھارتی فوج کا مو¿قف ہے کہ 29 ستمبر کو یوسمرگ کے علاقے میں مخصوص خفیہ معلومات کی بنیاد پر مشترکہ کارروائی کی گئی، فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص مارا گیا اور بعد میں اس کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے طور پر کی گئی۔ یوں واقعے پر پاکستان اور بھارت کے مو¿قف ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، جبکہ ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت اور اس کے مبینہ عسکری پس منظر کا معاملہ دونوں ملکوں کے درمیان تازہ تنازع کا مرکزی نکتہ بن گیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پہلگام اور پلواما کی طرز پر ایک بار پھر فالس فلیگ اسٹوری گھڑی گئی ہے، جس کی 6 بنیادی وجوہات ہیں۔پاک فوج نے انڈین مردہ بیانیے کو زندہ ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کر کے بھارتی فوج اور میڈیا کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بھارت کا دنیا میں دہشتگردی پھیلانے کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ بھارت کی جانب سے ماضی میں مکتنی باہنی کی حمایت ہو یا موجودہ دور میں کالعدم ٹی ٹی پی کی مالی معاونت، یہ ثابت کرتی ہے کہ بھارت خطے میں دہشتگردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، اور سکھوں سمیت دیگر اقلیتوں کو دبانے کے شدید عالمی الزامات ہیں۔بھارتی حکومت اپنی ریاستی پالیسی کے تحت دہائیوں سے دہشتگردی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔بھارتی حکومت اور میڈیا اپنی داخلی ناکامیوں، مظالم اور عالمی سطح پر بننے والے منفی تاثر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے وقتاً فوقتاً اس طرح کے ڈرامے رچاتے رہتے ہیں، تاکہ دوسروں پر الزام تراشی کر کے اپنے گناہ چھپا سکیں۔ترجمان پاک فوج نے بھارت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر اس نے کوئی فالس فلیگ ڈراما رچانے یا مہم جوئی کی کوشش کی، تو اس کا ایسا دردناک اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا جسے ان کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران سوال اٹھایا کہ آخر بھارت کو اس طرح کے فالس فلیگ ڈرامے رچانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ من گھڑت کہانیاں دراصل بھارت کے لیے شدید شرمندگی کا باعث ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنی اندرونی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ بھارت میں آج مسلمان، مسیحی، سکھ اور دیگر نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد ریاستی جبر کا نشانہ بن رہے ہیں۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ جب بھارت آئینہ دیکھتا ہے تو اسے اس میں اپنا چہرہ ایک دہشتگرد کے طور پر نظر آتا ہے، جس سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کیا کر رہا ہے۔بھارت کو انتہائی سخت اور دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر وہ کوئی ڈراما کرنا چاہتا ہے تو کر کے دیکھ لے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے کوئی جارحیت کی تو ہمارا ردعمل انتہائی سخت اور دردناک ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا واسطہ ایک انتہائی گھٹیا دشمن سے پڑا ہے۔ ترجمان نے چیلنج دیا کہ اگر بھارت کو کچھ کرنے کا شوق ہے تو سازشوں کے بجائے سامنے آ کر مقابلہ کرے، ہم اسے وہی جواب دیں گے جو معرکہ حق میں دیا تھا۔بھارتی میڈیا اور عسکری قیادت کے جھوٹے دعوو¿ں کو بے نقاب کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارتی گودی میڈیا کا واحد ایجنڈا اپنے انتہا پسند ہندو آقاو¿ں کو خوش کرنا ہے۔انہوں نے بھارتی ایئر چیف کے بیان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی ماہ بعد نیند سے جاگے اور کہہ دیا کہ مجھے یاد ہے ہم نے بھی پاکستانی جہاز گرائے تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت اس وقت ’شائننگ انڈیا‘ کی خیالی دنیا میں جی رہا ہے، لیکن ہم نے جو شائن انہیں دکھائی ہے، درحقیقت وہ شائن نہیں بلکہ شیم (شرمندگی) ہے۔آج کا ہندوستان مکمل طور پر ’فیکستان‘ اور ’انکاو¿نٹرستان‘ بن چکا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی پیشہ ور فوج اپنے اخلاقی زوال کی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ خطے میں دہشتگردی کے حوالے سے چشم کشا انکشاف کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ افغان طالبان کی جانب سے کی جانے والی دہشتگردی بھی دراصل بھارت ہی کا ایک مکروہ چہرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خود افغان طالبان بھارت سے متعلق یہ کہتے ہیں کہ ’ہمارا ڈی این اے ایک ہے‘۔بدقسمتی سے ہمارا ہمسایہ دہشتگردی کو مسائل کا حل سمجتھا ہے، اس وقت بھارت د±نیا کی سب سے بڑی دہشتگرد ریاست بن چکا ہے جس کا کٹھ جوڑ دہشتگردوں کے ساتھ ہے۔طالبان رجیم نے جبراً افغانستان پر قبضہ کیا، بھارت کی پشت پناہی میں افغانستان د±نیا بھر کے دہشتگردوں کا محفوظ مسکن بن چکا ہے۔ افواج پاکستان آئین پاکستان کی پابند ہیں، اس کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، برائے مہربانی سیاست سے متعلق کوئی سوال نہ کریں۔ملکی معاملات پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صوبوں کے ساتھ بات چیت کرنا اور سیاسی معاملات کو دیکھنا وفاقی حکومت کا کام ہے۔ انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کی سیکیورٹی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ملکی دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جو بھی قدم اٹھانا پڑا، وہ بلا جھجک اٹھایا جائے گا۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *