اسلام آباد:: چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دو اراکین کی تقرری کا معاملہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی ہٹ دھرمی اور عدم تعاون کی وجہ سے کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس کی بار بار کوششوں کے باوجود اپوزیشن لیڈر ملاقات کے لیے تیار نہیں ہوئے جس کے باعث یہ اہم آئینی عمل رکاوٹ کا شکار ہو گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے چیف الیکشن کمشنر اور دو اراکین کی تقرری کے معاملے پر اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو دو خطوط بھیجے تھے جن میں مشاورت کی درخواست کی گئی تھی۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے رابطے کے باوجود اچکزئی ملاقات سے انکاری رہے۔ وزیراعظم پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم نمبر 5 میں جانے پر بھی تیار تھے تاکہ معاملہ حل کیا جا سکے مگر اپوزیشن لیڈر نے اس پیشکش کو بھی قبول نہیں کیا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ محمود خان اچکزئی اس سے قبل سپیکر چیمبر جانے سے بھی انکار کر چکے ہیں۔ ان کے عدم تعاون کے باعث تقرری کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر نے آئینی معاملات پر بانی چیئرمین سے بھی ملاقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع نے اس مطالبے پر سخت استفسار کیا ہے کہ آئینی معاملات پر بانی چیئرمین سے مشاورت کا کیا جواز ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کی تقرری کا معاملہ صرف وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت سے ہی طے پا سکتا ہے۔ آئین کے تحت اس عمل میں کسی تیسرے فریق کی شمولیت کا کوئی جواز نہیں۔ حکومتی ذرائع نے واضح کیا کہ وزیراعظم نے آئینی تقاضوں کے مطابق اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کی تمام ممکنہ راہیں کھلی رکھی تھیں مگر ان کی ہٹ دھرمی نے پورے عمل کو تعطل کا شکار بنا دیا ہے۔ اس صورت حال کے باعث الیکشن کمیشن کی تکمیل کا معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے اور سیاسی حلقوں میں اس تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور دو ممبران نثار احمد درانی سندھ سے اور شاہ محمد جتوئی بلوچستان کی پانچ سالہ مدت 26 جنوری 2025 کو ختم ہوئی۔26ویں آئینی ترمیم (آرٹیکل 215 میں اضافہ)کے تحت وہ نئے تقرر تک اپنے عہدوں پر فائز رہ رہے ہیں تاکہ الیکشن کمیشن خالی نہ رہے آئین کے مطابق تقرری 45 دن کے اندر ہونی چاہیے تھی۔
اہم خبرپاکستان
چیف الیکشن کمشنر تقرری معاملہ، محمود اچکزئی کے عدم تعاون سے تعطل کا شکار
