اسلام آباد : عالمی بینک کی تازہ رپورٹ نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت اور معاشی مشکلات کی سنگین تصویر پیش کردی۔ رپورٹ کے مطابق خطے میں روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدن رکھنے والے غریب افراد میں 48 فیصد پاکستانی شامل ہیں، جبکہ پاکستان میں 3 ڈالر یومیہ غربت کی شرح 20 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق معاشی بحران، بلند مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی، کورونا وبا اور 2022 کے تباہ کن سیلاب سمیت طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ نے گھریلو آمدنی اور روزگار کے مواقع کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں غربت میں اضافہ ہوا۔عالمی بینک نے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کی معاشی صورتحال سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں پاکستان کی غربت، معاشی نمو، مہنگائی، روزگار اور ڈیجیٹل معیشت سمیت مختلف شعبوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2018-19 سے 2024-25 کے دوران غربت کی شرح میں 6.4 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ عالمی بینک کے مطابق معاشی بحران، مہنگائی اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی نے غربت میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ 2022 کے تباہ کن سیلاب اور کورونا وبا کے اثرات نے بھی صورتحال کو مزید متاثر کیا۔عالمی بینک کے مطابق طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ کے باعث گھریلو آمدنی اور روزگار کے مواقع متاثر ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی کے باعث پاکستان کو بدستور اہم معاشی خطرات کا سامنا ہے۔عالمی بینک نے پاکستان کی حقیقی فی کس جی ڈی پی نمو رواں مالی سال 2.2 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ مجموعی معاشی شرح نمو 3.8 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان میں مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.8 فیصد اور بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 3.5 فیصد تک رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔عالمی بینک نے کہا کہ مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتیں پاکستان کی معیشت کے لیے اہم خطرات میں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں بھی 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک پر بھی دباو¿ بڑھا ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ میں پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اے آئی کا استعمال آرٹس اور میڈیا کے شعبوں میں زیادہ ہو رہا ہے اور خطے کے مقابلے میں پاکستان میں اے آئی سے متعلق استعمال کی شرح نمایاں ہے۔رپورٹ کے مطابق گرافک ڈیزائن، کانٹینٹ تخلیق اور ترجمے سمیت مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔عالمی بینک کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران پاکستان میں ڈیجیٹل مہارتوں سے متعلق ملازمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، جو ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔رپورٹ میں تاہم ڈیجیٹل رسائی کے حوالے سے چیلنجز کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ پاکستان سمیت 8 ممالک میں موبائل براڈ بینڈ کی شرح آمدنی کے معیار کے مقابلے میں کم ہے، جس سے کم آمدنی والے طبقات کے لیے ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی کے مسائل نمایاں ہوتے ہیں۔عالمی بینک کی رپورٹ نے پاکستان کو غربت میں اضافے، مہنگائی اور معاشی دباو¿ سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ روزگار، ڈیجیٹل مہارتوں اور نئی ٹیکنالوجی کے مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر بھی توجہ دلائی ہے
اہم خبرپاکستان
پاکستان میں غربت 20 فیصد سے تجاوز، معاشی مشکلات سنگین ہوگئیں ,عالمی بینک
