اسلام آباد :جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے حکومت کے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدام کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جے یو آئی عوام، عدالت اور پارلیمان سمیت ہر جگہ جائیں گی اور آئینی حقوق کی بحالی کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس غیر آئینی اقدام کے سامنے ایک لمحے کے لیے بھی جھکنے کو تیار نہیں ہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ چند روز کے مذاکراتی عمل کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے بتایا کہ سات اکتوبر کو وہ عمرے سے واپس آئے تو اپوزیشن لیڈر سینیٹ سمیت اپوزیشن قائدین ان کے پاس آئے اور کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ اگلے روز وفاقی وزرائ بھی ان کے پاس پہنچے اور دونوں فریقوں نے انہیں ثالثی کا کردار سونپنے کی بات کی۔مولانا فضل الرحمن کے مطابق اس وقت لانگ مارچ جاری تھا اور ان کی تجویز پر اسلام آباد جانے سے گریز کیا گیا۔ اگلے ہی روز ایمرجنسی لگنے والی تھی تاہم حکومتی وفد کی آمد پر ایمرجنسی موخر کر دی گئی۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے انہیں ملاقات کے لیے بلایا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ انہیں لگ رہا تھا کہ حکومت فیصلے کر چکی ہے تاہم ساتھیوں کی تجویز پر وہ وزیر اعظم ہاو¿س گئے۔حکومت نے صاف کہا کہ پہلے لانگ مارچ ختم کیا جائے جبکہ پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ عمران خان سے ملنے دیا جائے اور انہیں ہسپتال لے جانے کے عدالتی فیصلے پر عمل کیا جائے۔ دونوں فریق ”پہلے آپ“ کی بات کر رہے تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے دونوں کو ثالث اور فیصلے کا اختیار دینے کا کہا اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو بھی اعتماد میں لینے کی تجویز دی۔ کانفرنس کال پر سہیل آفریدی، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سمیت دیگر نے بات کی۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ مطالبات تسلیم کر لیے جائیں تو لانگ مارچ ختم کر دیا جائے گا۔آج صبح مولانا فضل الرحمن دوبارہ وزیر اعظم ہاو¿س گئے اور بتایا کہ لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے پی ٹی آئی تیار ہے بشرطیکہ وزیر اعظم وعدہ کریں کہ عمران خان سے ملاقات اور علاج کا انتظام کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کابینہ اجلاس شام کو بھی ہو سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن پشاور جا کر سہیل آفریدی سمیت دیگر رہنماو¿ں سے بات کرنا چاہتے تھے اور دونوں فریقوں سے دو دو رہنما لے کر اپنی نگرانی میں مذاکرات آگے بڑھانا چاہتے تھے۔اس دوران نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کابینہ اجلاس سے فون کر کے بتایا کہ دہشت گردی کی وجہ سے ایمرجنسی لگانا چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے اسحاق ڈار سے سوال کیا کہ بلوچستان میں حالات خیبر پختونخوا سے بھی خراب ہیں تو وہاں گورنر راج کیوں نہیں لگایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ثالثی کا کردار کیوں سونپا گیا تھا اگر کابینہ خود ہی فیصلہ کر لینا تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ گواہ ہیں کہ حکومت نے بات ماننے کے باوجود وعدہ خلافی کی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی ہی آئین و جمہوریت کو دفن کر رہی ہے جبکہ پی پی پی نے ماضی میں چار مرتبہ گورنر راج لگایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی آئین پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ جنرل پرویز مشرف سے لے کر آج تک بار بار آپریشنز کی حکمت عملی ناکام رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ انہیں آپریشن کی حمایت کرنے کو کہا جا رہا ہے مگر بتائیں کہ نائن الیون کے بعد سارے آپریشن کیوں ناکام ہوئے۔ اگر آئینی کام نہ ہو تو ایمرجنسی لگانی ہے تو پہلے غیر آئینی وفاقی حکومت کے خلاف لگائیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اڑھائی سو کارکنوں کی لاشیں اٹھائی ہیں اور فورسز کی طرح ان کے کارکن بھی قربانیاں دے رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے اس فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔۔۔
اہم خبرپاکستان
مولانا فضل الرحمن کا حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام، گورنر راج کے خلاف مزاحمت کا اعلان
