اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی کے لیے جاری اقدامات میں سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ترجیحی بنیادوں پر مقررہ مدت کے ساتھ جامع لائحہ عمل تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ قیمتی پتھروں کے شعبے کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی سست روی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے، تاہم غیر معیاری کان کنی، تراش خراش کے محدود انتظامات اور اسمگلنگ کے باعث ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات کا جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں متعلقہ وفاقی وزرا، مشیران اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو قیمتی پتھروں کی تلاش، کان کنی، تراش خراش، ویلیو ایڈیشن اور عالمی منڈیوں میں برآمدات کے فروغ کے لیے جاری پائلٹ منصوبوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں کی کان کنی سے لے کر ان کی تراش خراش، پراسیسنگ، زیورات کی تیاری اور برآمدات تک ایک مربوط نظام تشکیل دیا جائے، تاکہ خام معدنی وسائل کو زیادہ مالیت کی مصنوعات میں تبدیل کرکے ملکی معیشت اور برآمدات کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیمتی پتھروں اور معدنیات کے وسیع ذخائر سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو خطے کے دیگر ممالک کی طرز پر قیمتی پتھروں اور جواہرات کے لیے برانڈ پاکستان متعارف کرانے پر کام کرنے کی ہدایت کی، تاکہ پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں شناخت ملے اور ان کی برآمدات میں اضافہ ہو۔ انہوں نے ویلیو ایڈیشن کے لیے سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام کا لائحہ عمل جلد مرتب کرنے اور پائلٹ منصوبوں و ماڈل مائنز کی تعمیر میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرنے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ حسین آباد، اسکردو میں سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام کے لیے 4.8 کنال اراضی منتقل ہو چکی ہے اور منصوبے کے لیے فنڈز بھی دستیاب ہیں، جبکہ تعمیراتی کام جلد شروع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں بھی منصوبوں کے لیے اراضی کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں مستقل سینٹر کی تعمیر مکمل ہونے تک اسے متبادل مقام پر فعال کیا جائے گا۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ قیمتی پتھروں کے لیے نشاندہی شدہ علاقوں کی جیولوجیکل میپنگ مکمل کر لی گئی ہے، جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں آٹھ نئے بلاکس کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں قیمتی پتھروں کی دریافت کے لیے مزید کام کیا جائے گا۔حکام کے مطابق رواں مالی سال میں اس شعبے کی ترقی کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے سات شہروں میں دس بینکوں کی 80 شاخوں میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی، سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام اور برآمدات بڑھانے کے لیے تمام اقدامات پر مشتمل جامع لائحہ عمل آئندہ ہفتے پیش کیا جائے، تاکہ منصوبوں پر مقررہ مدت کے اندر پیش رفت یقینی بنائی جا سکے۔اجلاس میں وفاقی وزرا جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، احسن اقبال، عطا اللہ تارڑ اور علی پرویز ملک، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی
اہم خبرپاکستان
قیمتی پتھروں کی برآمدات بڑھانے کا فیصلہ، اسکردو میں سینٹر آف ایکسیلینس قائم ہوگا
