اسلام آباد : پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ماسکو فارمیٹ میں افغان سرزمین سے دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا، مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے سے حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے، جبکہ پاکستان سعودی عرب اور اس کے عوام کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ دوسری جانب افغانستان سے دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان نے ماسکو فارمیٹ اجلاس میں اپنا مو¿قف واضح طور پر پیش کیا اور کہا کہ مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے سے خطے کے حقائق تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ پاکستان اس سے قبل 2 ستمبر کو مدینہ منورہ پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کر چکا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور سعودی عرب اور اس کے عوام کے دفاع کے حق سے متعلق اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ترجمان کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور فیلڈ مارشل نے شرکت کی۔ اجلاس میں دفاعی تعاون کو آگے بڑھانے اور اس سلسلے میں عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کو دونوں ممالک کی سلامتی اور علاقائی استحکام کے تناظر میں اہم قرار دیا جاتا ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں عملی اقدامات پر اتفاق دفاعی تعاون کے ادارہ جاتی طریقہ کار کو آگے بڑھانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ اجلاس پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اجلاس میں شرکت کی اور افغانستان کے اندر سے ہونے والی دہشت گردی کے معاملے پر اپنا مو¿قف پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے واضح کیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں اور اس معاملے کا ذکر ماسکو فارمیٹ کے سابقہ مشترکہ اعلامیوں میں بھی موجود رہا ہے۔ترجمان کے مطابق طالبان حکام نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے سے انکار کیا، تاہم مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے سے خطے کے حقائق تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔پاکستان کا مو¿قف ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا ضروری ہے
اہم خبرپاکستان
پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے پُرعزم، مکہ دفاعی معاہدے پر عملی اقدامات کا فیصلہ
