اسلام آباد : وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ روابط کے ذریعے پاکستان کی معاشی ساکھ بہتر بنانے، بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے حکومتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اجلاسوں کے موقع پر فچ ریٹنگز کے حکام اور کینیڈا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے بین الاقوامی ترقی رندیپ سرائے سے ہونے والی ملاقاتوں میں پاکستان کی معاشی کارکردگی، خودمختار کریڈٹ ریٹنگ، مالیاتی استحکام، تجارت، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔فچ ریٹنگز کے حکام سے ملاقات میں وزیرِ خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک نے پاکستان کی معاشی صورتِ حال، مالیاتی استحکام اور جاری اصلاحاتی اقدامات پر بریفنگ دی۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک رسائی بحال ہونا اور مسلسل بنیادی مالیاتی سرپلسز کا حصول معیشت میں استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مہنگائی، زری پالیسی، شرحِ مبادلہ، جاری کھاتے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا، جس سے ملک کے بیرونی مالیاتی تحفظات مضبوط ہوئے ہیں۔ملاقات میں قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت بہتر بنانے، سودی اخراجات میں کمی، قرضوں کی مدت میں اضافے اور دوطرفہ قرضوں کی واپسی کی مدت میں توسیع سے متعلق یقین دہانیوں پر بھی تبادلہ? خیال کیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی بیرونی معاشی دباو¿ برداشت کرنے کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے، جبکہ پاکستانی وفد نے آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل اور ساختی اصلاحات کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔فچ حکام کے ساتھ گفتگو میں برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کو حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری روابط کے امکانات بھی زیرِ بحث آئے۔ اس موقع پر پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو بہتر بنانے اور ڈبل بی (BB) ریٹنگ کے حصول کے لیے درکار شرائط اور اقدامات پر فچ ریٹنگز کی رائے بھی طلب کی گئی۔دوسری جانب وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کینیڈا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے بین الاقوامی ترقی رندیپ سرائے سے ملاقات میں پاکستان میں معاشی استحکام کی جانب پیش رفت اجاگر کی اور کینیڈین سرمایہ کاری، تجارت اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ ملاقات میں کینیڈین سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے سرمایہ کاری کے تحفظ کے معاہدے پر پیش رفت تیز کرنے کی ضرورت پر بھی بات ہوئی۔دونوں فریقوں نے زراعت، زرعی ٹیکنالوجی، لائیو اسٹاک اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کے مواقع کا جائزہ لیا، جبکہ مختلف شعبوں میں نجی شعبے کی شمولیت کو اہم قرار دیا گیا۔ بیرک کے کان کنی منصوبے، اس کے سکیورٹی جائزے، مالیاتی انتظامات اور برآمدات و روزگار میں اضافے کے ممکنہ کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی خدمات، مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتوں اور ورچوئل اثاثوں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات بھی زیرِ غور آئے۔ فریقین نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے روابط کے فروغ اور کینیڈا سے پاکستان ترسیلاتِ زر میں اضافے کے مواقع پر بھی گفتگو کی۔ اس کے علاوہ پاکستان کی مصالحتی کوششوں اور علاقائی تنازعات کے توانائی، کھاد کی فراہمی اور عالمی غذائی تحفظ پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے سیلاب کے دوران کینیڈا کی امداد پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے سیاحت کو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے ایک اہم ممکنہ شعبے کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے رندیپ سرائے کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ان ملاقاتوں میں پاکستان کی معاشی ساکھ بہتر بنانے، مالیاتی استحکام کو مستحکم کرنے، عالمی سرمایہ کاری کے حصول، برآمدات میں اضافے اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی روابط کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز رہی۔ حکومت کی جانب سے ساختی اصلاحات جاری رکھنے اور نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے عزم کو پائیدار معاشی ترقی کے لیے اہم قرار دیا گیا
اہم خبرپاکستان
وزیر خزانہ کی فچ ریٹنگز اور کینیڈا سے ملاقاتیں، معاشی ساکھ بہتر بنانے پر اتفاق
