وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹائیزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کا مو¿ثر استعمال پاکستان میں تجارت، برآمدات، زرعی پیداوار، کاروباری سہولت اور سرکاری خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ملکی ترقی کے لیے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں معیشت اور گورننس میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹائیزیشن کے استعمال سمیت حکومتِ پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان تعاون پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے جاری منصوبوں پر بریفنگ دی گئی اور ان پر عمل درآمد تیز کرنے کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئیں۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ علی بابا گروپ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی آسان بنانا اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے چینی منڈیوں میں پاکستانی زرعی اجناس کی برآمدات کے لیے علی بابا کے تعاون کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ زراعت میں آٹومیشن اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پیداوار اور برآمدی صلاحیت میں اضافے کے لیے اہم ہے۔ وزیرِ اعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ علی بابا کے ساتھ جاری منصوبوں کو واضح اہداف، مقررہ مدت اور مو¿ثر نگرانی کے تحت مکمل کیا جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومتِ پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کے تحت زراعت میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز، تمباکو کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکنالوجی اور ترشاوہ پھلوں اور زیتون کی برآمدات کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کام جاری ہے۔بریفنگ کے مطابق علی بابا کے آن لائن تجارتی پلیٹ فارم پر پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ کے لیے خصوصی پاکستان پویلین بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستانی مصنوعات کو بین الاقوامی خریداروں تک پہنچانے اور مقامی کاروباروں کے لیے نئی منڈیوں کے مواقع پیدا کرنے میں مدد دینا ہے۔وزیرِ اعظم نے ایکسپورٹ پروموشن بورڈ کو ہدایت کی کہ علی بابا کے ساتھ مل کر ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے مو¿ثر تعاون یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے شہر ہانگڑو میں علی بابا کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے، اب اس تعاون کو عملی اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ایس ایم ایز ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور علی بابا کے اشتراک سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے دو سالہ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت کاروباری اداروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی، تربیت اور ای کامرس کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے تجارتی دستاویزات کی ڈیجیٹل تصدیق کا نظام فعال کر دیا گیا ہے، جس سے تجارتی عمل میں ڈیجیٹل سہولت فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ چھوٹے کاروباروں کو ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنانے اور ان کی برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے علی بابا کے ساتھ تعاون کو مو¿ثر انداز میں آگے بڑھایا جائے۔اجلاس میں صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے کینسر کی تشخیص کے مجوزہ پائلٹ منصوبے پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ علی بابا کے تعاون سے کینسر کی پیشگی تشخیص کے نظام کے اطلاق کو جلد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ضروری اقدامات تیز کیے جائیں تاکہ صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا سکے۔وزیرِ اعظم نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت جاری پروگرام اگنائیٹ اور علی بابا کے تعاون سے آئی ٹی گریجویٹس کی 15 روزہ تربیت کا پروگرام جلد شروع کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں ایف بی آر اور پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) کے لیے جدید ڈیٹا پلیٹ فارم اور سینٹرل ڈیٹا ہب کی تیاری پر بھی غور کیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد متعلقہ اداروں میں ڈیٹا کے مو¿ثر استعمال اور جدید ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینا ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اعلیٰ تعلیم، ریلوے، پوسٹل سروسز اور شہری انتظام کے شعبوں میں بھی مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق اقدامات تکمیل کے مراحل میں ہیں۔توانائی کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو ایندھن کی سپلائی چین سے متعلق ڈیٹا کے تجزیے کے لیے مصنوعی ذہانت اور بزنس انٹیلی جنس ٹولز فراہم کیے جا رہے ہیں۔وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ علی بابا کے تعاون سے پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کی نگرانی کے لیے ڈیٹا اینالیٹکس کا نظام جلد متعارف کرایا جائے، تاکہ متعلقہ شعبے میں ڈیٹا کی بنیاد پر نگرانی اور تجزیے کی صلاحیت بہتر بنائی جا سکے۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ علی بابا گروپ کے ساتھ جاری تعاون کے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے تمام ضروری اقدامات نومبر تک مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔انہوں نے زور دیا کہ منصوبوں کے لیے واضح اہداف، مقررہ مدت اور مو¿ثر نگرانی کا نظام وضع کیا جائے تاکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔اجلاس میں وفاقی وزرائ احسن اقبال، رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطائ اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، سید مصطفیٰ کمال اور عبدالعلیم خان، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اہم خبرپاکستان
مصنوعی ذہانت کا استعمال تجارت و برآمدات میں اہم کردار کا حامل ہے، وزیراعظم
