وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوشکی میں فتنہ الہہندوستان کے حملے میں دو طالبہ کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوے کہا ہے کہ سفاک دہشتگرد بلوچ بچوں کو تعلیم سے دور رکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوںگے ۔ اپنی مسلح افواج کے ساتھ مل کر ان کا قلع قمع کریں گے ۔اور صوبے کو من کا گہوارہ بنائیں گے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ نوشکی میں دہشتگردوں کے حملے میں بی ایل اے کے حملے میں دو طالبات کو شہید کر دیا گیا ۔ دہشتگرد معصوم بچیوں کو نشانہ بنا کر کون سے مقاصد حال کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ انکی کون سی بلوچیت ہے ۔ بلوچ عوام تو عظیم روایات کے امین ہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد بلوچ بچوں کو تعلیم سے دور رکھنا ہے ۔ دنیا بھر میں آج کے دور میں بچے اور بچیوں کو جدید ٹیکنا لوجی ، لیپ ٹاپس اور سکالر شپس دی جاتی ہیں اور یہ لوگ یا تو بچیوں کو ورغلا کر نام نہاد جہاد کے نام پر خود کش جیکٹس پہناتے ہیں ۔ یا انھیں خود کش دھماکوں پر مجبور کرتے ہیں ۔ یہ بلوچستان کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ یہ اپنی حدود کو کراس کر چکے ۔ ہم ان سفاک قاتلوں کا پیچھا کر کے انھیں کیفر کردار تک پہنچائیں گے ۔ انہوں نے کہا انکی گھناونی حرکتوں کو بیان کرنا بھی شرمناک ہے ۔ یہ خواہ کچھ بھی کر لیں ہم سکو ، کالجز کسی صورت بند نہیں کریں گے ۔ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو ہر گز ان دہشتگردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے ہیں ۔ اپنی مسلح افواج کے ساتھ مل کر ان کو پہاڑوں اور غاروں سے باہر نکال کر لائیں گے اور انھیں درد ناک موت سے دوچار کریں گے ، انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کا مکمل قلع قمع کر کے صوبے کو امن و امن کا گہوارہ بنایا جائے گا ۔ انہوں نے شہید ہونے والی طالبہ کے نام پر سپورٹس گالا اور سپورٹس فیسٹیول کے انعقاد کا بھی اعلان کیا
اہم خبربلوچستان
دہشت گردی کے باوجود بلوچستان میں اسکول اور کالجز کسی صورت بند نہیں ہوں گے،سرفراز بگٹی کا اعلان
