اہم خبربلوچستان

سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ڈیجیٹل نظام اور میرٹ پر بھرتیوں کا فیصلہ

چیف سیکرٹری بلوچستان کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی اجلاس میں صوبائی محکموں کے انتظامی امور اور کارکردگی سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف محکموں کے ڈیٹا بیس کے باہمی انضمام، محکمہ داخلہ کی ڈیجیٹلائزیشن، خالی آسامیوں، سرکاری گاڑیوں سمیت اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ عوامی خدمت تمام سرکاری محکموں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور انتظامی کارکردگی کا اصل معیار عوام کو ملنے والی سہولت اور ان کے مسائل کا بروقت حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دوردراز علاقوں کے عوام کی خدمات میں درپیش مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ایسے انتظامی اقدامات کیے جائیں جن سے ان کا وقت اور وسائل بچ سکیں۔ عوامی شکایات کو محض دفتری کارروائی سمجھنے کے بجائے ان کے عملی ازالے کو ترجیح دی جائے اور ہر سطح پر ذمہ داری، شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری محکموں میں ڈیجیٹائزیشن کو فروغ دیا جائے تاکہ فائلوں کی نقل و حرکت اور دفتری امور کی انجام دہی میں تیزی لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے مثر استعمال سے نہ صرف سرکاری امور میں غیرضروری تاخیر کا خاتمہ ہوگا بلکہ عوام کو خدمات کی بروقت اور آسان فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکے گی اور انتظامی اقدامات کے ثمرات شہریوں تک پہنچ سکیں۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ محکمے اپنے دفتری نظام کو بتدریج ڈیجیٹل خطوط پر استوار کریں اور اس عمل میں عوامی سہولت کو اولین ترجیح دیں۔ اجلاس کو محکمہ داخلہ میں ای فائلنگ، ای ڈاک اور ای سمریز سمیت ڈیجیٹل نظام، ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونے والی گاڑیوں، مختلف محکموں کی ناکارہ سرکاری گاڑیوں کو ضابطے کے تحت کنڈیم قرار دینے اور محکموں، منسلک محکموں و خودمختار اداروں کے اسائنمنٹ اکانٹس کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری وسائل عوام کی امانت ہیں اور ان کا استعمال قواعد و ضوابط اور عوامی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے۔ مالی و انتظامی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے دستیاب وسائل سے خدمات کی فراہمی بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پی پی ایچ آئی کی طرز پر خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے عمل میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے تاکہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے اہل اور حق دار امیدواروں کو ان کا جائز حق دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امیدواروں کی جانچ اور انتخاب کا عمل واضح، یکساں اور قابلِ تصدیق معیار کے تحت مکمل کیا جائے، جس میں کسی قسم کی سفارش، جانبداری یا غیرضروری انسانی مداخلت کی گنجائش نہ ہو۔ انہوں نے تاکید کی کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ متعلقہ قواعد و ضوابط کی پاسداری اور مثر نگرانی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ بھرتیوں کے عمل پر امیدواروں کا اعتماد مضبوط ہو۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (بی پیپرا) کے تحت ٹینڈرز میں سنگل بڈر، یعنی صرف ایک بولی دہندہ کی شرکت، کی حوصلہ شکنی کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان نے ہدایت کی کہ سنگل بڈر والے ٹینڈرز کی شرح مزید کم کرنے اور مسابقت کو فروغ دینے کے لیے متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق مثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شفافیت، صحت مند مسابقت اور سرکاری وسائل کے بہترین استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کی افادیت اسی وقت سامنے آئے گی جب شہریوں کو سرکاری اداروں کی کارکردگی میں واضح بہتری محسوس ہو۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *