اہم خبر

چیف آف سٹاف کے ہاتھ پر بندھی ڈیوائس اور حملوں کی نگرانی کرتے ٹرمپ: انتہائی حساس ’وار روم‘ کی کہانی بیان کرتی چار تصاویر

وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ اور اُن کی کابینہ کے اہم ارکان کی چار تصاویر جاری کی ہیں۔ یہ تصاویر ایران پر امریکی اور اسرائیلی افواج کے سنیچر کی صبح کیے گئے ابتدائی فضائی حملوں کے موقع پر لی گئی تھیں۔

ان تصاویر میں صدر ٹرمپ کو اِن حملوں کی نگرانی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تصاویر میں موجود افراد اور پس منظر کی تفصیلات پر قریب سے نظر ڈال کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اُن نازک لمحات میں کمرے کے اندر کیا ہو رہا تھا۔

جب امریکی صدور کسی ملک یا شخصیت کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کرتے ہیں تو وہ عام طور پر وائٹ ہاؤس کے اس مقام پر بیٹھتے ہیں جسے ’سچویشن روم‘ کہا جاتا ہے۔

لیکن ڈونلڈ ٹرمپ سنیچر کی صبح کے ابتدائی اوقات میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آغاز کے وقت وائٹ ہاؤس میں موجود نہیں تھے۔

وہ فلوریڈا میں اپنے لگژری محل اور ممبرز کلب ’مار اے لاگو‘ میں تھے۔ اسی جگہ انھوں نے اتوار کا روز بھی گزارا، جہاں سے وہ حملوں کی نگرانی کرتے رہے اور وقتاً فوقتاً صحافیوں سے بات بھی کرتے رہے۔
مار اے لاگو میں موجود سچویشن روم مکمل طور پر اس قابل ہے کہ صدر ٹرمپ وہاں سے فوجی کارروائیوں کی نگرانی کر سکیں، جیسا کہ وہ ماضی میں بھی کر چکے ہیں۔

پہلی بار 2017 میں مار اے لاگو میں ایک ’سینسیٹو کمپارٹمنٹڈ انفارمیشن فیسلٹی‘ (ایس سی آئی ایف) قائم کی گئی تھی یعنی ایک ایسی جگہ یا کمرہ جہاں انتہائی خفیہ معلومات پر بات کی جا سکتی ہے۔ ٹرمپ نے دوسری صدارتی مدت کا حلف لینے کے بعد اس فیسلٹی کو دوبارہ فعال کیا ہے۔

اس نوعیت کے حساس مقامات اور کمروں تک لوگوں کی رسائی انتہائی سخت کنٹرول کے تحت کی جاتی ہے اور ایسے مقامات پر الیکٹرانکس اور دیگر روز مرہ استعمال کے آلات لے جانے کے حوالے سے سخت قوانین لاگو ہوتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *