اہم خبر

آیت اللہ خامنہ ای: ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا مسلم دنیا پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ کی ہلاکت کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک پیغام میں کہا گیا کہ ’اس عظیم جرم کا جواب دیا جائے گا‘ اور ’ہم اپنی پوری طاقت اور عزم کے ساتھ، ملت اسلامیہ اور دنیا کے آزاد عوام کی حمایت سے، اس عظیم جرم کے مرتکب افراد کو پچھتاوے پر مجبور کر دیں گے۔‘

پزشکیان نے کہا کہ علی خامنہ ای نے 37 سال کے دوران ’حکمت اور بصیرت کے ساتھ اسلام کے محاذ کی قیادت کی اور ان کی ہلاکت کے بعد ایران ایک مشکل دور سے گزرے گا۔‘

کہنے کو 86 سالہ خامنہ ای ایران کے رہبرِ اعلیٰ تھے لیکن پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں اہل تشیع مکتبہ فکر میں ان کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

عراق، پاکستان، شام اور دنیا کے دیگر مسلم ممالک میں جلسوں کے دوران ایل تشیع مسلمان خامنہ ای کی تصاویر اپنے ہاتھوں میں اٹھائے نظر آتے ہیں۔

اتوار کو پاکستان میں کراچی کے امریکی قونصلیٹ کے باہر اس وقت فائرنگ ہوئی جب مظاہرین نے بیرونی سیکیورٹی حصار کو عبور کرتے ہوئے اندر داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی اور اس دوران نو افراد کی ہلاکتیں بھی سامنے آئیں۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران اقوامِ متحدہ کے دفاتر اور دیگر املاک نظر آتش کیے گئے۔
ماضی میں ایران اور اسرائیل کشیدگی کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں حزب اللہ، حوثی باغیوں اور ان جیسے دیگر گروہوں نے تہران کی حمایت کی تھی، لیکن گذشتہ دو برسوں میں ان گروہوں کو امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں شدید نقصان ہوا ہے۔

امریکہ کے نیو لائنز انسٹیٹیوٹ کے سینیئر ڈائریکٹر اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر کامران بخاری سمجھتے ہیں کہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خطرات ضرور لاحق ہو سکتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *