ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے کئی ہفتوں قبل سے ہی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد ایرانی حکومتی عہدیدار یہ تنبیہ کرتے آئے تھے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں صرف تہران نہیں بلکہ پورا خطہ ایک نئی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔
ایران میں اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر خامنہ ای نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ’اگر اس بار امریکہ نے جنگ شروع کی تو یہ پورے خطے تک پھیل جائے گی۔‘
اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی ردِعمل دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ تہران اپنی ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔
سنیچر کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تہران نے سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود اہداف پر میزائل حملے کیے ہیں۔
ان ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور امریکی فوجی اہلکاروں کی موجودگی کوئی راز نہیں ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے اگست 2024 میں بتایا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اِس کے تقریباً 40 ہزار فوجی اہلکار موجود ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی فوجی قطر کے علاوہ بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، شام، اُردن، مصر، قبرص اور عراق میں بھی موجود ہیں۔ امریکہ کے کویت میں بھی متعدد فوجی اڈے ہیں جبکہ سعودی عرب میں بھی اس کے دو اڈے ہیں۔
ایرانی میزائلوں حملوں کی لپیٹ میں آنے والے متعدد خلیجی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جواب دینے کا حق محفوط رکھتے ہیں۔
