اہم خبر

ہاروت اور ماروت: بابل میں اُتارے گئے فرشتوں کا قصہ قرآن، بائبل اور یہودی روایات میں

موجودہ عراق میں دریائے فرات کے کنارے موجود وسیع کھنڈرات ہزاروں سال قدیم شہر بابل کے ہیں۔

بغداد سے تقریباً 88 کلومیٹر جنوب میں واقع یہ وہ مقام ہے جہاں، مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کے مطابق، ہاروت اور ماروت نامی دو فرشتوں کو آزمائش کی غرض سے اُتارا گیا تھا۔ یہ فرشتے جادو سکھاتے تھے، لیکن تنبیہ کے بعد۔

مفسرینِ قرآن بتاتے ہیں کہ اس سے متعلق تذکرہ قرآن کی سورہ البقرہ میں موجود ہے۔ سورہ البقرہ کے مخاطب مدینہ اور اس کے آس پاس رہنے والے لوگ تھے، بالخصوص اہلِ کتاب یعنی یہودی اور مسیحی۔ یہودی جن کی کتاب تورات میں، قرآن کے مطابق، پیغمبرِاسلام کی آمد کا پتا ملتا ہے۔

مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل (یہودیوں) کی نافرمانی اور اُن پر اپنے انعامات کا تذکرہ کرنے کے بعد، قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ اب بھی تورات میں پیغمبرِ اسلام کی آمد کی پیشین گوئیوں کو نظر انداز کر کے اُن کی اطاعت کی بجائے انھیں جادو ٹونے سے نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔
جاوید احمد غامدی اپنی تفسیر ’البیان‘ میں لکھتے ہیں کہ شیاطین، جن حضرت سلیمان کے تابع فرمان تھے۔ سفلی علوم (جنھیں عام زبان میں کالا علم کہا جاتا ہے) چونکہ زیادہ تر جنات کے تصرفات سے پیدا ہوتے ہیں، اِس لیے تقدس کا رنگ دینے کے لیے لوگوں نے اِنھیں اُن (حضرت سلیمان) سے منسوب کر دیا۔ لیکن قرآن نے حضرت سلیمان کو ان الزامات سے بری الذمہ قرار دیا ہے۔

قرآن میں آگے لکھا ہے کہ ’وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور اُس چیز کے پیچھے لگ گئے جو بابل میں دو فرشتوں، ہاروت و ماروت، پر اُتاری گئی تھی، گو کہ وہ دونوں اُس وقت تک کسی کو کچھ نہ سکھاتے تھے، جب تک اُسے بتا نہ دیتے کہ ہم تو صرف ایک آزمائش ہیں، اِس لیے تم اِس کفر میں نہ پڑو۔‘

تفسیر ’البیان‘ میں ہے کہ اصل میں لفظ ’فِتْنَۃٌ‘ استعمال ہوا ہے جس کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں۔ قرآن میں اِس سے بالعموم وہ چیزیں مراد لی گئی ہیں جو اصلاً انسان کے فائدے ہی کے لیے پیدا کی گئی ہیں لیکن انسان اپنے استعمال کی غلطی سے اُنھیں اپنے لیے فتنہ بنا لیتا ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *