اہم خبر

اسلام آباد نے امریکہ کو چین سے رابطے کے لیے خفیہ معاونت فراہم کی

پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش کے بعد یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

کیا یہ مذاکرات ممکن ہو پائیں گے یا نہیں اور اگر واقعی میں پاکستان کی پیشکش پر ایران اور امریکہ رضامند ہوتے ہیں تو اسلام آباد میں ہی بات چیت ہوگی اور ان میں کون کون شامل ہو گا، یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب اب تک واضح نہیں۔

لیکن یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ اور اس کے حریف کے درمیان ثالثی کی یہ پہلی کوشش نہیں ہو گی۔ تقریبا 55 سال پہلے پاکستان کی کوششوں نے امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا جب سنہ 1971 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے چین کا ایک خفیہ لیکن تاریخ ساز دورہ کیا تھا۔

اس حوالے سے بی بی سی پر ایک تحریر پہلی مرتبہ اکتوبر 2020 کو شائع کی گئی تھی جو دوبارہ پیش کی جا رہی ہے۔

اُس وقت پاکستان گھمبیر سیاسی بحران میں گھرا ہوا تھا اور امریکہ سرد جنگ کے اُس زمانے میں چین اور سویت یونین کے درمیان پیدا ہونے والی نظریاتی اور تزویراتی خلیج کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔

یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں عام انتخابات ہو چکے تھے مگر حکومت سازی میں تاخیر ہو رہی تھی اور مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کا آغاز ہو چکا تھا۔ مشرقی پاکستان سے ہزاروں کی تعداد میں بنگالی نقل مکانی کر رہے تھے جبکہ مکتی باہنی بھی پاکستانی فوج کے خلاف کارروائیوں میں مصروف تھی۔

یہ وہ دور ہے جب سویت یونین نے انڈیا کے ساتھ ’امن، دوستی اور تعاون‘ کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے میں تزویراتی تعاون پر زور دیا گیا تھا اور اس معاہدے کے بعد انڈیا کا روایتی غیر جانبداری کا دعویٰ کمزور ہو گیا تھا۔ سویت یونین غالباً پاکستان کے چین کی جانب زیادہ جھکاؤ کی وجہ سے ناراض بھی تھا۔

لیکن ان تمام حالات اور واقعات کے پسِ منظر میں امریکہ پاکستان کو چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری کے لیے کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *