کوئٹہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت قومی کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ بارے اجلاس چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں سرکاری وسائل کے موثر اور شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے متعدد فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر متعلقہ افراد کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کی فوری واپسی یقینی بنائی جائے گی۔
اس ضمن میں سابق گورنرز، سابق وزرائے اعلیٰ، سابق وزرا ، سابق اراکین اسمبلی، ریٹائرڈ افسران اور دیگر غیر مجاز افراد سے سرکاری گاڑیاں واپس لینے کی ہدایت جاری کی گئی اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری گاڑیوں کا جامع آڈٹ کیا جائے اور ایندھن کی فراہمی صرف تصدیق شدہ اور مجاز گاڑیوں تک محدود رکھی جائے۔
اجلاس میں 2005 سے پرانی سرکاری گاڑیوں کی مرحلہ وار نیلامی اور گاڑیوں کی ریشنلائزیشن کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا گیا کہ دفتری اوقات کے بعد سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی، تاہم سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت لازمی ہوگی، خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔
اجلاس میں تمام سرکاری گاڑیوں میں ٹریکرز کی تنصیب کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ اجلاس میں طے پایا کہ بغیر اجازت سرکاری گاڑیاں صوبے سے باہر لے جانے پر پابندی عائد ہوگی، اندرون شہر سرکاری گاڑیوں کی نقل و حرکت کو سیف سٹی کیمروں کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا تاکہ شفافیت اور نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنایا جا سکے ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہدایت کی کہ سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری اور غیر مجاز استعمال کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ حکومتی وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی وسائل کے ضیاع کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور کفایت شعاری اقدامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا ۔
