’اس میں عورت اور مرد کے لیے الگ سے کوئی کیٹیگری نہیں ہے۔ آگ لگ گئی تو ہمیں ریسکیو کرنا ہے، فائر فائٹنگ کرنی ہے۔‘
یہ کہنا ہے فائر فائٹر کائنات جنید کا جو سندھ کے شہر کراچی میں ریسکیو ادارے 1122 سے وابستہ ہیں۔
ماضی میں آگ بجھانا، تباہ شدہ عمارتوں میں جانا اور ہنگامی حالات میں لوگوں کو بچانا ایسے کام تھے جنھیں روایتی طور پر مردوں کی ذمہ داری تصور کیا جاتا تھا۔
مگر اب یہ تصور آہستہ آہستہ بدل رہا ہے اور کراچی میں اب یہ ذمہ داری خواتین نے بھی اٹھا لی ہے۔
اس سروس کے تحت شہری مفت ہیلپ لائن 1122 پر کال کر کے طبی امداد، حادثے کی صورت میں مدد، آگ بجھانے، پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے اور دیگر ہنگامی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔
’اس شعبے تک پہنچنے کا راستہ آسان نہیں تھا‘
ریسکیو میں شامل خاتون فائر فائٹر کائنات جنید بتاتی ہیں کہ اس شعبے تک پہنچنے کا راستہ آسان نہیں تھا۔
وہ بتاتی ہیں کہ ’بھرتی کے لیے پہلے فزیکل اور تحریری امتحان ہوا، پھر انھیں تربیت کے لیے لاہور بھیجا گیا جہاں چھ سے سات ماہ تک عملی مشقیں، فائر فائٹنگ، ریسکیو اور میڈیکل ایمرجنسی کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ انھیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ فیلڈ اتنی مشکل ہے۔ بعد میں تربیت نے انھیں صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی مضبوط بنایا۔
