اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہوتا بھی ہے تو اس سے کسی بڑی پیش رفت کی زیادہ توقع نہیں۔
آٹھ روز قبل اسلام آباد میں جو تھوڑی بہت امید دکھائی دے رہی تھی اب وہ بھی معدوم پڑتی جا رہی ہے۔ ایران نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ایران کی خلیجی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ اب امریکی افواج کی جانب سے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم بردار جہاز توسکا پر فائرنگ اور اسے تحویل میں لیے جانے کے بعد ایران نے امریکہ پر بحری قزاقی کا الزام بھی لگا دیا ہے۔
یہ حالات قطعاً ایسے نہیں جن میں کسی مشترکہ نکتے پر پہنچنے یا اس تنازع کا خاتمہ ممکن ہو۔
بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقصد پہلے سے کمزور ایرانی معیشت پر اس حد تک دباؤ ڈالنا ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ کے مطالبات ماننے پر مجبور ہو جائے۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ حکمتِ عملی شاید اب بھی کارگر ثابت ہو لیکن ایران عام طور پر اس طرح کے دباؤ پر ویسے ردِعمل نہیں دیتا جیسا بعض لوگ اس سے توقع کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، ایران اپنے مؤقف میں مزید سختی لا رہا ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو اپنا ’خود مختار حق‘ قرار دے رہا ہے۔
