اسرائیل میں لبنان کے برعکس دوطرفہ سفارتی رابطوں کے تصور پر گہری سیاسی تقسیم دکھائی نہیں دیتی، تاہم اس بارے میں شکوک و شبہات خاصے نمایاں ہیں کہ آیا یہ کوششیں عملی نتائج دے سکیں گی یا نہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے اعلان سے کچھ ہی دیر قبل حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کے ایک سرحدی قصبے پر راکٹوں کی بوچھاڑ کی۔ ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اسرائیل کے شمالی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی عدم تحفظ اور غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں، جس کے باعث معمولاتِ زندگی معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔
کریات شمونہ کے سابق نائب میئر اوفیر یہزقیلی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں جنگ بندی کے بارے میں سنجیدہ شکوک ہیں۔ ہم وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں کو معمول بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘
کفر گلیڈی کے رہائشی نِسّان زیوی کے مطابق، مقامی آبادی میں اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ ’یہ شاید محض ایک عوامی تعلقات کی مشق ہو، جبکہ حزب اللہ خود کو دوبارہ منظم کر رہی ہے، اسلحہ جمع کر رہی ہے اور لبنان پر کنٹرول اور اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے اپنے عزائم جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
لبنان سے متصل اسرائیلی سرحدی قصبے میٹولا میں رہنے والی لیات کوہن رویو کہتی ہیں کہ ’یہاں کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر جنگ بندی کے ساتھ زمینی سطح پر سکیورٹی کی صورتحال میں حقیقی تبدیلی نہ آئی یعنی خطرے کا عملی خاتمہ اور عام شہری زندگی کی بحالی ممکن نہ ہو سکی تو یہ کوئی حل نہیں، بلکہ صرف ایک تاخیر ہے۔‘
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل میں پایا جانے والا یہ شک اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود شمالی محاذ پر پائیدار امن کے بارے میں خدشات بدستور موجود ہیں۔
