Uncategorized

آبنائے ہرمز بند تو دنیا بند سعودی عرب میدان میں، ایران نے امریکی چال کو ‘ڈیڈلاک’ کہہ دی

ایرانی قیادت میں اہم کردار ادا کرنے والے رہنما اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے حوالے سے نئی حکمتِ عملی کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔‘

ایکس پر جاری بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ ’امریکی اقدامات اور اُن کے اتحادیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ناکہ بندی مسلط کیے جانے کے باعث بحری جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔‘

باقر قالیباف کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکی انتظامیہ کی یہ ’بدنیتی‘ بالآخر کمزور پڑ جائے گی۔‘

انھوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’ہمیں بخوبی اس بات کا اندازہ ہے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کا برقرار رہنا امریکہ کے لیے ناقابلِ برداشت ہے مگر ابھی تک ہماری جانب سے کسی کارروائی کا باضابطہ آغاز بھی نہیں ہوا۔‘

واضح رہے کہ باقر قالیباف امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکراتی دور کی قیادت کر چُکے ہیں۔

لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق سوموار کے روز جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے، جو جنگ بندی کے آغاز کے دو ہفتے سے زائد عرصے بعد کے سب سے خونریز دنوں میں شمار ہوتے ہیں۔

وزارت کے مطابق جمعرات سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 110 ہو چکی ہے۔ اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ اُن کی جانب سے لبنان میں شدت پسند تنظیم حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

لبنانی حکام کی جانب سے جاری کردہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں شہریوں اور جنگجوؤں میں فرق نہیں کیا گیا، تاہم وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں دو بچے شامل تھے، جبکہ 14 زخمی بھی بچے ہی ہیں۔

تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے میں اس کے 17 فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور اس نے حزب اللہ پر سینکڑوں راکٹ اور ڈرون حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے بھی متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جن میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی سرحد کے قریب واقع ناقورہ میں اسرائیلی فوجیوں پر ڈرون حملے اور ملک کے جنوب مشرقی علاقے قنطارہ میں فوجی اہداف پر راکٹ داغے جانا بھی شامل ہیں۔ تنظیم کی جانب سے اسے جوابی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے متحدہ عرب امارات کے خلاف ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں بلاجواز اور ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔

فرانسیسی صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب امارات نے اعلان کیا کہ امریکہ اسرائیل جنگ میں ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کے نافذ ہونے کے بعد پہلی مرتبہ اسے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

صدر میکخواں نے منگل کے روز ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’امارات کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملے کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔‘

انھوں نے امارات اور خطے کے اتحادی ممالک کی اپنے علاقوں کے دفاع کے لیے فرانس کی حمایت کا اعادہ کیا۔

فرانسیسی صدر نے اپنے بیان میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور استحکام کی بحالی کے لیے آزاد بحری آمدورفت ناگزیر ہے۔

جرمنی کے مشرقی شہر لائپزگ میں سوموار کے روز ایک گاڑی کے ہجوم پر چڑھ دوڑنے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔

مقامی حکام کے مطابق واقعے میں مجموعی طور پر 22 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

لائپزگ کے میئر برخارڈ یونگ نے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور، جس کی عمر 33 سال ہے اور وہ جرمن شہری ہے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ تاحال حملے کے محرکات واضح نہیں ہو سکے۔

پولیس کے مطابق گاڑی نے شہر کے مرکزی علاقے گِرمائشے شٹراسے میں کئی افراد کو ٹکر ماری، جس کے بعد وہ وہاں سے نکل گئی۔ بعدازاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا۔

صوبہ سیکسنی کے وزیرِاعلیٰ مائیکل کریچمر نے کہا کہ مشتبہ شخص ماضی میں ذہنی مسائل کا شکار رہا ہے۔ واضح رہے کہ ، لائپزگ صوبہ سیکسنی کا ایک اہم اور مصروف شہر ہے۔

لائپزگ پولیس کی ترجمان سوزان لوبکے نے بتایا کہ ایک شخص نے آگسٹس پلاٹس سے گزرتے ہوئے گاڑی کو گِرمائشے سٹریٹ اور پھر مارکیٹ سے تیز رفتاری سے گزرتے ہوئے لوگوں کو زخمی کیا۔

انھوں نے تصدیق کی کہ ’اس واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور افسوس کے ساتھ دو ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی جا رہی ہے۔‘

لائپزگ انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں 63 سالہ خاتون اور 77 سالہ مرد شامل ہیں اور ان دونوں کا تعلق جرمنی سے ہی تھا۔

انڈیا نے آبنائے ہرمز سے آگے متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع شہر فجیرہ میں ہونے والے حملے کو نا قابلِ قبول قرار دیا ہے۔ اس حملے میں تین انڈین شہری زخمی ہونے کی اطلاعت کی انڈین وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے۔

انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا فوری طور پر ان کارروائیوں کے خاتمے، شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے اور بے گناہ شہریوں پر حملوں کو روکنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق انڈیا موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا حامی ہے، تاکہ مغربی ایشیا میں امن اور استحکام بحال ہو سکے۔

انڈیا نے بین الاقوامی قوانین کے مطابق آبنائے ہرمز سے آزاد اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت اور تجارت کی بھی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈیا مسائل کے پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے زیرِ استعمال ایک بحری جہاز میں آگ لگنے کے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کی جائیں گی۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز بحری جہاز کو کسی قریبی بندرگاہ منتقل کیے جانے کے فوراً بعد ہوگا۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق واقعے کی اصل وجہ کا تعین اُس وقت کیا جائے گا جب جہاز کو بندرگاہ تک کھینچ کر لے جایا جائے گا اور اسے پہنچنے والے نقصان کا تفصیلی جائزہ مکمل ہو جائے گا۔

بیان میں حادثے کی نوعیت یا عملے سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے ایک بار پھر پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی یعنی ایرانی فوج کی تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی ہے۔

تسنیم کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی فوج کی جانب سے ’چھ ایرانی فوج کی تیز رفتار کشتیوں‘ کو نشانہ بنانے کے بے بنیاد دعوے کے بعد چونکہ پاسدارانِ انقلاب کے کسی بھی جنگی جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اس خبر کی نوعیت جانچنے کے لیے مقامی ذرائع سے تحقیقات کی گئیں۔

ادارے کے مطابق تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ’امریکی افواج نے خُصَب (عمان کے ساحل) سے ایران کے ساحلوں کی جانب جانے والی عوامی سامان بردار دو چھوٹی کشتیوں پر حملہ اور فائرنگ کی اور انھیں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان میں سوار پانچ عام شہری ہلاک ہو گئے۔‘

واضح رہے کہ سوموار کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کی سات چھوٹی فوجی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کشتیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے۔

تاہم پاسدارانِ انقلاب نے امریکی فوج کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ولی عہد اور وزیرِاعظم محمد بن سلمان نے منگل کے روز متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران یو اے ای کے خلاف ایران کے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور ان حملوں کو بلا جواز قرار دیا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد نے امارات کی سلامتی اور استحکام کے دفاع کے لیے اپنے ملک کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا اور پورے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ممکنہ طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔

دوسری جانب سعودی وزارتِ خارجہ نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے نہایت سخت لہجے میں ایران کے ان حملوں کی مذمت کی ہے، جنھیں وزارت نے ’میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے متحدہ عرب امارات میں غیر شہری اور معاشی تنصیبات کو نشانہ بنانے‘ کے مترادف قرار دیا۔

وزارتِ خارجہ نے ایک اماراتی کمپنی کے زیرِملکیت جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے کی بھی شدید مذمت کی ہے۔

تاہم ایران نے پیر کے روز امارات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ اس کا امارات کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

تاہم پاسدارانِ انقلاب سے قریبی تعلق رکھنے والی خبر رساں ایجنسیوں نے ان حملوں سے متعلق خبریں بارہا شائع کیں، جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق ’حنظلہ‘ نامی ہیکر گروہ نے فجیرہ کی تیل تنصیبات سے متعلق تفصیلات حاصل کرنے اور حملے سے چند منٹ قبل انھیں منظرِ عام پر لانے کی کوشش کی۔

بحری تحفظ کے ایک ماہر نے آبنائے ہرمز میں امریکہ کی کارروائیوں کو ’انتہائی خطرناک‘ اور ’کشیدگی میں اضافے کا باعث‘ قرار دیا ہے۔

برطانیہ کے تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کے پروگرام برائے عالمی سلامتی کی محقق نیتیا لیب نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ صورتحال شدید تناؤ کی عکاسی کرتی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کی بحالی کی شرائط پر مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں۔

ان کے مطابق امریکہ نے یہ مؤقف اختیار کر لیا ہے کہ جہازوں کی آمدورفت کا واحد راستہ ایسے حالات میں سفر کرنا ہے جہاں ایران کی جانب سے طاقت کے استعمال یا حملوں کا خطرہ بدستور موجود رہے۔

محقق نیتیا لیب کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کا ’پروجیکٹ فریڈم‘ بعض جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نکالنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو یہ اقدام زیادہ سے زیادہ عارضی طور پر مقاصد حاصل کرنے کا باعث بن سکتا ہے جبکہ اس اہم آبی گزرگاہ کی پائیدار بحالی کے لیے کہیں زیادہ وسیع اور جامع کوششوں کی ضرورت ہے۔‘

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ کا ’پروجیکٹ فریڈم‘ دراصل ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ کے مترادف ہے۔

ایکس پر جاری بیان میں ایرنی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ سیاسی بحران کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔‘

انھوں نے منگل کی صبح ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’پاکستان کی سنجیدہ سفارتی کوششوں کے باعث مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم امریکہ کو چاہیے کہ وہ بدخواہوں کی جانب سے کسی نئے دلدل نما تنازع میں گھسیٹے جانے سے ہوشیار رہے۔‘

عباس عراقچی نے اپنے اسی بیان میں متحدہ عرب امارات کی انتظامیہ کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یو اے ای کو بھی اسی طرح محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔‘

ایکس پر جاری بیان کے آخر پر ایرانی وزیرِ خارجہ نے لکھا کہ ’نام نہاد ’پروجیکٹ فریڈم‘ درحقیقت ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ ثابت ہو رہا ہے۔

شپنگ کمپنی مرسک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کا ایک امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز امریکی فوج کی حفاظت میں کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے باہر نکل گیا ہے۔

مرسک کے مطابق یہ سفر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے بغیر مکمل ہوا اور جہاز کے تمام عملے کے ارکان محفوظ اور خیریت سے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ الائنس فیئر فیکس نامی یہ جہاز فروری 2026 سے خلیج میں پھنسا ہوا تھا، جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا آغاز ہوا تھا۔

مرسک کے بیان کے مطابق امریکی فوج نے کمپنی سے رابطہ کیا اور جہاز کو مدد کی پیشکش کی۔ ایک ’جامع سکیورٹی پلان‘ تیار کیے جانے کے بعد جہاز کو خلیج چھوڑنے کی اجازت دی گئی۔

کمپنی کے مطابق بعد ازاں یہ جہاز امریکی فوجی اثاثوں کے ہمراہ خلیج سے روانہ ہوا، اور مرسک نے اس آپریشن کو ممکن بنانے پر امریکی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر رابطہ کاری کو سراہا ہے۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے بیان دیا تھا کہ امریکی پرچم بردار دو تجارتی جہاز کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، تاہم ایران کی پاسداران انقلاب نے امریکہ کے اس دعوے کو ’واشگاف جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں بارود سے بھری گاڑی میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم ایک نوجوان شہری ہلاک جبکہ 14 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر جنوبی وزیرستان لوئر طاہر شاہ وزیر کے مطابق یہ دھماکہ اعظم ورسک بازار کے قریب پیش آیا، جس میں زیادہ تر عام شہری متاثر ہوئے۔

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جان محمد شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں 14 زخمیوں کو لایا گیا ہے، جن میں سے تین سے چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والے نوجوان محمد اقبال کرکٹ کے شوقین تھے اور دھماکے کے وقت وہ کرکٹ کھیل رہے تھے۔ زخمیوں میں آٹھ سالہ ایمل کانسی بھی شامل ہے۔ ایمل کے والد محمد اسلم نے بتایا کہ بچے اپنے گھر کے باہر کھیل رہے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا، جس کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ اُن کے مطابق ان کا بیٹا وہیں زخمی ہوا جسے فوری طور پر وانا ہسپتال منتقل کیا گیا۔

اعظم ورسک علاقہ، ضلعی صدر مقام وانا سے تقریباً 16 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکہ اعظم ورسک بازار سے چند میٹر کے فاصلے پر ہوا، جبکہ قریب ہی سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ بھی قائم ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جب بارود سے بھری گاڑی علاقے سے گزر رہی تھی تو سکیورٹی اہلکاروں نے اس پر فائرنگ کی، جس کے بعد گاڑی میں دھماکہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق بظاہر شدت پسندوں کا ہدف سکیورٹی اہلکار تھے، تاہم ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی دھماکہ ہو جانے کے باعث زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑا۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں ایک عرصے سے تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں بم دھماکوں کے ساتھ ساتھ ڈرون حملے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ، سرکاری ملازمین اور پولیس اہلکاروں کے اغوا اور قتل کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

تین روز قبل شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ کے قریب ایک قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان کو شدت پسندوں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا، جس کے بعد مقامی افراد نے ’چیغہ پارٹی‘ تشکیل دے کر شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔ اس واقعے میں شدت پسندوں کے جانی نقصان کی اطلاعات تو موصول ہوئیں، تاہم اس کی تصدیق کے لیے کوئی واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔

ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور حالیہ واقعے کے بعد لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے
فضائی دفاعی نظام نے پیر کو ایران کے 15 میزائل اور چار ڈرون روکے: متحدہ عرب امارات
متحدہ عرب امارات نے پیر کے روز اپنی دفاعی کارروائیوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے 12 بیلسٹک میزائل، تین کروز میزائل اور چار ڈرونز کو ناکارہ بنایا، جن کے نتیجے میں تین افراد کو درمیانی نوعیت کی چوٹیں آئیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یو اے ای کے مختلف علاقوں میں آج حملوں کی متعدد اطلاعات موصول ہوئیں، جن میں الفجیرہ میں ڈرون حملے کی رپورٹ بھی شامل ہے، جہاں بتایا جاتا ہے کہ تین انڈین شہری زخمی ہوئے ہیں۔

وزارتِ دفاع کے مطابق تنازع کے آغاز سے اب تک ملک میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 227 ہو چکی ہے، جبکہ تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک نامعلوم ’سینیئر فوجی اہلکار‘ کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ایران کا یو اے ای کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا‘۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس بیان پر مزید کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *