پاکستان

’بچے رات کو سو نہیں سکتے، ہر طرف خوف ہے‘: سرحدی علاقوں میں پاکستانی شہریوں کی صورتحال

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جاری جھڑپوں کے دوران خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کے سرحدی علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ لنڈی کوٹل کے رہائشی ملک تاج الدین نے بتایا:
“بچے رات کو سو نہیں سکتے تھے۔ دھماکوں کی آوازیں اتنی زیادہ تھیں کہ ہر طرف خوف پایا جاتا تھا۔”

انھوں نے بتایا کہ جھڑپوں کے آغاز پر سرحد کے قریب ایک کلومیٹر کے اندر آباد گاؤں خالی کرا دیے گئے، جن میں باچا مینا دیہات بھی شامل ہے۔ لنڈی کوتل طورخم بارڈر سے تقریباً پانچ سے چھ کلومیٹر دور ہے، اور ملک تاج الدین خود پشاور منتقل ہو چکے ہیں، لیکن بہت سے لوگ ابھی بھی وہاں رہائش پذیر ہیں۔

26 فروری 2026 کو افغانستان کی طالبان حکومت نے فضائی حملوں کے جواب میں پاکستان کے سرحدی علاقوں پر حملے شروع کیے اور متعدد چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ کیا۔ پاکستان کی جانب سے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق پانچ دن کے دوران 435 افغان اہلکار ہلاک اور 630 زخمی ہوئے، جبکہ افغانستان کی 188 چوکیوں، 188 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں اور 31 چوکیوں پر قبضہ کیا گیا۔

پاکستانی فضائیہ نے بھی افغان مقامات پر کارروائی کی، اور 51 مقامات کو فضا سے نشانہ بنایا گیا، تاہم ان کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔

سرحدی علاقوں کے عام شہریوں کے لیے حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور مقامی آبادی خوفزدہ ہو کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *