پاکستان

ایران سے واپس آنے والے پاکستانی طلبہ کی کہانی: ’ہاسٹل کے کمرے سے دیکھا تو شعلے بلند ہو رہے تھے‘

ایران میں جاری کشیدگی اور میزائل حملوں کے باعث کئی پاکستانی طلبہ وطن واپس آ رہے ہیں۔ پیر کو ایران سے پاکستان پہنچنے والے میڈیکل کے طالبعلم محمد رضا نے بتایا:
“تہران پر ہونے والے میزائل حملوں کے باعث دھماکوں کی شدت بہت زیادہ تھی۔ ہاسٹل کے کمرے سے دیکھنے پر سامنے والی عمارت سے شعلے بلند ہو رہے تھے۔ ایسی صورتحال میں خوفزدہ ہونا فطری تھا، اس لیے ہم نے فوری طور پر وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔”

رضا کے مطابق وہ تہران میں ایک میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ہیں اور آنے والے دنوں میں ان کا ایک اہم امتحان ہونا تھا، جس میں شاید وہ حصہ نہ لے سکیں۔

ایران میں تعینات پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے پیر کو بتایا کہ گذشتہ 48 گھنٹوں میں تقریباً 650 پاکستانی شہریوں کو ایران بھر سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جن میں زیادہ تر طلبہ شامل ہیں۔
سفیر کے مطابق:
“ہم ہر پاکستانی شہری کی رہنمائی کر رہے ہیں اور پیچیدہ سکیورٹی صورتحال میں انہیں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔”

ایران سے واپسی کے راستے مختلف ہیں: چاہ بہار اور زاہدان کے راستے لوگ گوادر اور تفتان پہنچ رہے ہیں، جبکہ کچھ افراد آذربائیجان کے راستے بھی پاکستان واپس آ رہے ہیں۔ آذربائیجان میں پاکستانی سفارتخانے نے درخواست کی ہے کہ جو لوگ ایران سے آستارا کراسنگ کے ذریعے آ رہے ہیں، وہ اپنے ساتھ گرم کپڑے رکھیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *