پاکستان اور افغانستان کے درمیان جمعرات کی شب ہونے والی سرحدی جھڑپوں اور پاکستانی فضائیہ کی کارروائیوں کے بعد کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے فوجی اہلکاروں کو ہلاک کرنے، چوکیوں پر قبضہ کرنے اور فوجی اہداف کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا، لیکن ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہے۔
پاکستان کی جانب سے ان کارروائیوں کو آپریشن ’غضب للحق‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ، ترکی، سعودی عرب اور ملائیشیا سمیت متعدد مسلم ممالک نے دونوں ممالک کے رہنماؤں سے تحمل اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے طالبان حکومت کو دھمکی دی:
“اب ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب ہماری اور تمہاری کھلی جنگ ہو گی۔ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی، ہم تمہارے ہمسائے ہیں اور تمہاری اوقات جانتے ہیں۔”
افغان طالبان کے ترجمان اور رہنماؤں کی جانب سے بھی بدلہ لینے اور جنگ کی دھمکیاں سامنے آ رہی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔
عسکری ماہرین کے مطابق، پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان فوجی صلاحیتوں میں واضح فرق ہے:
پاکستان کے پاس جدید فضائیہ، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، آرٹلری اور تربیت یافتہ پیشہ ور فوجی موجود ہیں۔
افغان طالبان کے پاس محدود تعداد میں جنگی ساز و سامان اور کم تربیت یافتہ افواج ہیں، اور ان کی فضائی صلاحیت تقریباً صفر کے برابر ہے۔
پاکستانی فوج کی اسٹریٹجک اور لاجسٹک صلاحیت طالبان کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور منظم ہے۔
اس فرق کے باوجود دونوں طرف کی کشیدگی، سرحدی جھڑپیں اور انتقامی حملے خطے میں خطرے کا باعث بن رہے ہیں، اور عام شہری بھی ان کشیدگیوں سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
