برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ترجیح اپنے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔
سر کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ برطانیہ کا موقف ہے ایران سے مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے کیا جائے، جس کے نتیجے میں ایران اپنے جوہری عزائم سے دستبردار ہو جائے۔ اسی وجہ سے انھوں نے ایران پر ابتدائی حملوں میں حصہ نہیں لیا، لیکن جب ایران نے دوسرے ممالک پر حملے شروع کیے تو صورتحال تبدیل ہو گئی۔
پریس کانفرنس کے دوران برطانوی وزیر اعظم نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف حملوں میں شامل نہ ہونے اور حملوں کے لیے امریکی طیاروں کو برطانوی اڈے نہ دینے کے فیصلے کا دفاع کیا۔
ان کا کہنا تھا: ’میری توجہ ایسی پر سکون قیادت فراہم کرنے پر ہے جو قومی مفاد میں فیصلے کرے۔ اور دباؤ کے باوجود اپنی اقدار اور اصولوں پر کھڑی رہے۔‘
کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ ان کی ترجیح برطانوی عوام کی حفاظت ہے، اسی لیے امریکہ اور اسرائیل کے حملے شروع ہونے سے بہت پہلے انھوں نے خطے کے دفاعی اثاثوں میں اضافہ شروع کر دیا تھا تاکہ ’اپنے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔‘
جنوری اور فروری میں برطانیہ اپنے دفاعی اثاثے قطر اور قبرص منتقل کر رہا تھا۔ ان میں جنگی جہاز، ایئر ڈیفنس میزائل اور جدید راڈار سسٹم شامل تھے۔
برطانوی وزیر اعظم کے مطابق یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تھے کہ کسی بھی تنازعے کی صورت میں برطانیہ مکمل طور پر تیار ہو۔
انھوں نے کہا کہ جیسے ہی سنیچر کے روز حملے شروع ہوئے، برطانیہ نے فوراً ان طیاروں کو فضا میں اڑایا اور وہ کئی ڈرون تباہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان ڈرونز میں سے کم از کم ایک اس اڈے کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں برطانوی فوجی موجود تھے۔
کیئر سٹارمر کے مطابق برطانیہ اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں اور میزائلز کے ذخائر کم نہ ہوں اور وہ خطے میں موجود اتحادیوں کی جانب سے مزید مدد کی درخواستوں کا جواب بھی دے رہا ہے۔
پریس کانفرنس میں برطانوی وزیر اعظم نے قطر میں چار اضافی طیارے اور قبرص میں ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے اپنے فوجی اڈے ’دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے‘ کی اجازت دے دی ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ برطانوی حکومت خلیجی ممالک میں پھنسے شہریوں کو نکالنے پر کام کر رہی ہے۔ ابھی تک ایک لاکھ 40 ہزار افراد نے برطانوی حکومت کو اپنی خطے میں موجودگی سے آگاہ کیا ہے۔
