انٹرنیشنل

ایران امارات اختلافات کے باعث برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم، مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہوسکا

برکس گروپ کے رکن ممالک، جن میں ایران اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں، کے وزرائے خارجہ جمعے کے روز دو روزہ اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام رہے، جس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بتائی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس کے اختتام پر میزبان ملک انڈیا نے مشترکہ بیان کے بجائے ایک صدارتی اعلامیہ جاری کیا، جس میں اختلافات کی نشاندہی کی گئی۔

ایران نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اس اتحاد یعنی برکس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی مذمت کرے، جبکہ امریکہ کی اتحادی متحدہ عرب امارات پر ایران نے اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

انڈیا کی جانب سے جاری بیان اور اجلاس کی دستاویز میں کہا گیا کہ ’مغربی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بعض رکن ممالک کے درمیان مؤقف میں اختلاف پایا گیا۔‘

بیان کے مطابق ان آرا میں جلد از جلد بحران کے حل، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت اور خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام جیسے نکات شامل تھے۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ مذاکرات کے دوران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، عالمی آبی راستوں میں سمندری آمدورفت کی آزادی اور شہری انفراسٹرکچر و انسانی جانوں کے تحفظ پر زور دیا گیا۔

تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پریس کانفرنس کے دوران، کسی ملک کا نام لیے بغیر، کہا کہ برکس کے ایک رکن نے بیان کے بعض حصوں کو ’روکا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمارا اس ملک سے کوئی اختلاف نہیں، وہ موجودہ جنگ میں ہمارا ہدف نہیں تھا۔ ہم نے صرف ان امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جو بدقسمتی سے اس کی سرزمین پر موجود ہیں۔‘

متحدہ عرب امارات نے بعد ازاں وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کہا کہ وہ ’اپنی خودمختاری، قومی سلامتی یا آزادانہ فیصلوں کو متاثر کرنے والے کسی بھی الزام یا دھمکی کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ امارات ’کسی بھی دھمکی، دعوے یا جارحانہ اقدام کے خلاف اپنے تمام خودمختار، قانونی، سفارتی اور فوجی حقوق محفوظ رکھتا ہے۔‘

امارات کے نائب وزیر خارجہ اور برکس اجلاس میں نمائندہ خلیفہ بن شاہین المرر نے کہا کہ 28 فروری 2026 سے ’متحدہ عرب امارات کو ایران کی جانب سے بار بار غیر ضروری اور دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں براہِ راست شہری تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔‘

انھوں نے ایران پر بین الاقوامی سمندری راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی الزام لگایا، جن میں آبنائے ہرمز کی عملی بندش بھی شامل ہے۔

خلیفہ بن شاہین المرر نے زور دے کر کہا کہ ’متحدہ عرب امارات کسی سے تحفظ کا انتظار نہیں کرتا اور نہ ہی اس معاملے میں کسی کی معاونت کا منتظر ہے بلکہ ہو خود ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے جسے انھوں نے ’کھلی جارحیت‘ قرار دیا۔‘

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *