روسی صدر پوتن نے بیجنگ میں ملاقات کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ روس اور چین کے درمیان تعلقات ’غیر معمولی حد تک بلند سطح‘ تک پہنچ چکے ہیں۔
ہم اس جملے کو پہلے بھی سن چکے ہیں۔ گزشتہ سال جون اور ستمبر میں چین کے دوروں کے دوران پوتن اور ان کے حکام بھی یہی بات کہہ چکے تھے۔
تاہم یہ بیان ہمیشہ روس کی جانب سے آتا ہے۔
یہ درست ہے کہ دوطرفہ تجارت ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے لیکن جب زبان اور اندازِ بیان کی بات آتی ہے تو چین زیادہ محتاط، حتیٰ کہ قدرے محتاط اور دور اندیشی سے کام لیتا ہے۔
شی جن پنگ اپنے ہم منصب کو ’پرانا دوست‘ کہتے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کو ’غیر متزلزل‘ قرار دے چکے ہیں۔
چینی رہنما عموماً محتاط انداز اختیار کرتے ہیں اور وہ بلند آہنگ بیانات دینے کے بجائے اپنی برتری برقرار رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
چین وہ شراکت دار ہے جس کی روس کو ضرورت ہے اور اس کے پاس وہ معاشی طاقت اور سفارتی اثر و رسوخ موجود ہے جس کی بنیاد پر وہ تعلقات کے رخ اور شرائط طے کر سکتا ہے۔
