مئی 1917 میں پرتگال کے تین بچوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایک کھلے میدان میں حضرت مریم کو دیکھا۔ ان بچوں کی ان باتوں نے بعد میں سرد جنگ کے دوران کمیونزم کے خلاف جذبات کو مضبوط کیا۔ 1992 میں ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو ان ’معجزات‘ کے بارے میں بتایا۔
13 مئی 1917 کو 10 سالہ لوشیا دوس سانتوس اپنے چھوٹے کزنز فرانسسکو اور جیسنتا مارٹو کے ساتھ پرتگال کے شہر فاطمہ میں بھیڑیں چرا رہی تھیں، جب ان کے مطابق انھوں نے ایک بلوط کے درخت میں ایک چمکتی ہوئی شخصیت دیکھی۔
بچوں کا کہنا تھا کہ وہ شخصیت حضرت مریم تھیں، جنھوں نے انھیں کہا کہ وہ اگلے پانچ مہینوں تک ہر ماہ کی 13 تاریخ کو اسی وقت وہاں آیا کریں گی۔
بچوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں تین خاص پیغامات یا راز دیے گئے۔
ان میں سے دو کو عام کر دیا گیا، لیکن تیسرا، جسے ’فاطمہ کا تیسرا راز‘ کہا جاتا ہے، تحریری شکل میں رکھا گیا اور کئی سال تک ویٹیکن میں خفیہ رکھا گیا۔
اس راز کے بارے میں قیاس آرائیوں نے فاطمہ کو ایک چھوٹے سے گاؤں سے نکال کر سرد جنگ کے دوران ایک اہم علامت بنا دیا۔
ایک عینی شاہد، فرانسسکو فریرا روزا نے 1992 میں بی بی سی کو بتایا ’میں نے آسمان میں مختلف رنگوں کے ستارے اور سیارے دیکھے، یہ ایک معجزہ تھا۔ پھر ایسا لگا جیسے آسمان سے پھول برس رہے ہوں، بالکل برفباری کی طرح۔ اس کے بعد سورج آگ کے ایک پہیے کی طرح تیزی سے گھومنے لگا۔ یہ تقریباً آدھے منٹ تک جاری رہا اور آخر میں اس کی رفتار بہت تیز ہو گئی تھی۔‘
اس دن موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ کئی شدید بیماریاں ٹھیک ہو گئیں اور بعض اندھے لوگوں کی بینائی واپس آ گئی۔
1980 کی کتاب ’فاطمہ: دی گریٹ سائن‘ (Fatima: The Great Sign) کے مطابق، پرتگال کے ایک اخبار نے اس واقعے پر خبر شائع کی جس کی سرخی تھی ’خوفناک واقعہ! فاطمہ میں دوپہر کے وقت سورج کیسے آسمان میں ناچا۔‘
اس رپورٹ کے مطابق وہاں کم از کم 50,000 لوگ موجود تھے۔
یہ ایک معجزہ تھا، اجتماعی وہم تھا یا کوئی قدرتی موسمی واقعہ اس پر آج بھی بحث جاری ہے لیکن اس واقعے نے وہاں موجود بہت سے لوگوں پر گہرا اثر ڈالا۔
فرانسسکو روزا نے 1992 میں بی بی سی کو بتایا ’مجھے پہلے بھی ایمان تھا، لیکن اس کے بعد میرا یقین اور مضبوط ہو گیا۔ میں نہیں ڈرا، لیکن بہت سے لوگ سورج کو اس طرح گھومتا دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے۔ جب ایسا کچھ ہوتا ہے تو انسان کو یقین آ ہی جاتا ہے۔‘
