امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
منگل کو امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ لیکن ’اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ اس کے تحت کوئی قابلِ قبول معاہدہ ہو جائے گا۔‘
اس موقع پر سیکریٹری خارجہ نے امریکی آپریشنز کا دفاع کیا اور انھیں ’انتہائی کامیاب‘ قرار دیا۔
’آپریشن ایپک فیوری، جس آپ میں سے کچھ لوگوں نے ناپسند کیا اور کچھ نے پسند کیا، اپنے عسکری مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، جس نے ڈرامائی طریقے سے ایران کی دفاعی انڈسٹری کی بنیاد کو کمزور کر دیا ہے۔‘
مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ ’آج ایران کے پاس بحریہ نامی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہ سمندر کی تہہ میں موجود ہے۔‘
سینیٹ میں انھوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کی صورت میں ایران پر سے پابندیاں نہیں ہٹائے گا۔
سیکریٹری روبیو نے امریکہ اراکین سینیٹ کو بتایا کہ ’اس پر گفتگو نہیں ہوئی ہے، ایسی کوئی پیشکش نہیں کی گئی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پابندیوں میں نرمی اس ’شرط کی بنیاد‘ پر کی جا سکتی ہے کہ ایران اپنی افزودہ یورینیم اور جوہری پروگرام کے دیگر پہلوؤں سے دستبردار ہو جائے۔
